رسائی کے لنکس

logo-print

یورپ میں پروازوں پر عائد پابندیاں منگل سے اُٹھنا شروع ہوجائیں گی


یورپ کی فضاؤں میں طیاروں کی پرواز پرعائد وہ پابندیاں منگل سے اُٹھنا شروع ہورہی ہیں، جن کے باعث لاکھوں مسافر اپنی منزلوں سے دُور پھنس کر رہ گئے ہیں۔

آئیس لینڈ میں آتش فشاں دہانے سے اُٹھنے والی راکھ کے ایک بہت بڑے بادل کے باعث فضائى سفر میں جو تعطل پیدا ہوا ہے اُسے ختم کرنے کے لیے یورپی یونین کے ٹرانسپورٹیشن کے وزیروں نے پیر کے روز ایک وِڈیو کانفرنس میں تین زون یا علاقے تشکیل دینے سے اتفاق کیا ہے۔ ان میں سے ایک علاقہ تمام پروازوں کے لیے کھول دیا جائے گا، دوسرے میں محدود پروازوں کی اجازت ہوگی جبکہ تیسرا علاقہ تمام فضائى ٹریفک کے لیے بدستور بند رہے گا۔

یورپی یونین کے ٹرانپورٹ کمشنر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تحفظ کے بارے میں کوئى سودے بازی نہیں کی جاسکتی۔لیکن انہوں نے کہا ہے کہ پروازوں کی بتدریج اجازت دینا ، فضائى کمپنیوں کے لیے، پھنسے ہوئے مسافروں کے لیے اور یورپی معیشت کے اُن شعبوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے، جو اس بحران سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

گذشتہ جمعرات کے روز فضائى حدود کے بند کردیے جا نے سے فضائى کمپنیوں کے لیے اقتصادی اثرات، امریکہ پر دہشت گردوں کے 11 ستمبر2001 کے حملوں کے اثرات سے بھی بڑے ہیں ۔

اس سے پہلے جرمنی میں شہری ہوابازی کے حکام نے مشرقی ایشیا، افریقہ اور شمالی امریکہ سے لگ بھگ 15 ہزار مسافروں کو واپس جرمنی لانے کے لیے فضائى کمپنی لُفتھانزا کو لمبی پرواز کے قابل اپنے 50طیارے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

لُفتھانزا نے کہا ہے کہ یہ طیارے منگل کے روز جرمنی میں ڈوسل ڈورف، فرینک فرٹ اور میونخ کے ہوائى اڈوں پر اُتریں گے۔فضائى کمپنی کے ایک ترجمان نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ یہ طیارے پرواز کے بصری ضوابط کے تحت پرواز کریں گے۔

برطانیہ نے اپنی فضائى حدود کو جزوی طور پر کھول دینے کے علاوہ رود بارِ انگلستان کے اُس پار پھنسے ہوئے مسافروں کو واپس وطن لانے کے لیے بحریہ کے جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کے روز یورپ میں معمول کی پروازوں کے صرف تیس فیصد کے قریب پروازیں چل رہی تھیں۔

XS
SM
MD
LG