رسائی کے لنکس

logo-print

لیاری گرلز کیفے، معاملہ آخر ہے کیا؟


مشہور آرکیٹیکچر عارف حسن نے ایک بار کراچی کے حوالے سے کہا کہ یہ کہنا کہ لیاری کراچی میں ہے درست نہیں؛ بلکہ، کراچی لیاری میں بستا ہے۔ شاید ان کے کہنے کی وجہ یہ ہو کہ اس علاقے میں ہر رنگ، ہر زبان کا انسان بستا ہے۔ اس علاقے کی گلی گلی میں آپکو مختلف بولیاں سنائی دیتی ہیں تو ہر صوبے اور کمیونٹی کی نمائندگی کرتا فرد ہنستا مسکراتا ملتا ہے۔

یہ علاقہ کئی برس بد امنی اور دہشت گردی کے نرغے میں رہا۔ یہاں تک کہ اسکی پہنچان ’گینگ وار‘ سے کی جانے لگی۔ کراچی کے حساس ترین علاقوں میں لیاری کا نام سر فہرست رہا۔ یہاں تک کہ کئی بار یہاں سے ان لوگوں نے نقل مکانی کی جو پرکھوں کے زمانے سے یہاں رہ رہے تھے۔

اس کی دوسری مقبولیت یہ بھی رہی کہ یہ پاکستان کی مشہور سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا۔ بے نظیر بھٹو نے بھی اس علاقے کو شروع دن سے اہمیت دی اور یہاں کی عوام کو اپنے قریب رکھا جسکی وجہ سے ایک بڑا ووٹ بینک اس پارٹی کی جھولی میں ڈلتا رہا۔ لیکن، حالات کے بدلتے ہی اب جہاں یہاں امن کا راج ہے وہی سیاسی اثر و رسوخ بھی تقسیم دکھائی دیتا ہے۔

اگر حالیہ انتخابات کی بات کی جائے تو صوبائی سطح پر یہاں ایک نشست متحدہ مجلس عمل کو تو دوسری تحریک لبیک پاکستان کو مل گئی، جس سے یہ رائے بھی سامنے آئی کہ اب علاقہ مکین کا ووٹ نظریاتی جماعتوں سے ہٹ کر مذہبی جماعتوں کی جانب جا رہا ہے۔

لیکن، لیاری اب بھی ویسا ہی ہے۔ یہاں اب بھی زندگی مسکراتی ہے، لوگوں کی آنکھوں میں امید کی چمک ہے اور خود کو بدلنے کا عزم بھی۔ یہاں فٹبال اب زور شور سے جاری ہے۔ کھیل کے میدانوں کا پر رونق ہونا بتا رہا ہے کہ امن قائم ہونے سے ڈر اور خوف کو شکست ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اب لیاری کی عورت بھی خود کو بدلنے کے لئے نکلی ہے۔

ویسے تو یہاں کی عورت مضبوط بھی ہے اور بااختیار بھی۔ لیکن، انھیں روز مرہ کی زندگی کے معمولات سے ہٹ کر کچھ کرنے کے کم ہی مواقع میسر آتے ہیں۔ اس وقت لیاری میں کئی ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کام کر رہے ہیں جہاں سے خواتین ہنر سیکھ کر خود کو معاشی طور پر مضبوط بنا رہی ہیں، وہیں دوسری جانب یہاں کئی این جی اوز بھی ہیں جو خواتین کو ہنر مند بنانے کے ساتھ ساتھ انھیں وہ کچھ بھی مہیا کر رہی ہیں جو ان خواتین کی خواہش ہے۔

اب وہ لینگویج کلاسز ہوں یا پھر آرائش و زیبائش کے کورسز، کمپیوٹر لٹریسی پروگرام ہوں یا پھر آرٹ اور کرافٹ کا ہنر، خواتین کا ان میں رجحان بھی ہے اور سیکھنے کی لگن بھی۔ ان ہی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمن این جی او ’آراڈو' کی سرپرستی میں ایک ادارہ ’لیاری گرلز کیفے‘ آج سے دو برس قبل مندرہ محلے میں کھولا گیا جس میں یہی تمام کورسز خواتین کو سکھائے جا رہے ہیں۔ لیکن، ان دنوں یہ ادارہ تنقید کی زد میں ہے۔

سمیر میندھرو جو اس ادارے کے منتظم ہیں، انکا یہ موقف ہے کہ عورت مارچ کے بعد سے انکے ادارے اور انکے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، جس میں انکا نام لیکر یہ پوسٹ ڈالی گئیں کہ ’لیاری گرلز کیفے‘ خواتین اور بچیوں کے اذہان خراب کر رہا ہے اور اسکے عیوض انھیں غیر ملکی فنڈنگ مل رہی ہے۔

یہ معاملہ کیسے شروع ہوا؟ لیاری گرلز کیفے نے گزشتہ برس کم عمر لڑکیوں کی فروری 2018 میں سائیکلنگ کی ٹریننگ کا آغاز کیا۔ زلیخا داؤد جو اس ادارے کی کوآرڈینیٹر ہیں، وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے، انھوں نے بتایا کہ جب ہم نے اس مہم کا آغاز کیا تو ہماری لڑکیوں پر بعض لڑکوں نے آوازیں کسیں اور پتھراؤ کیا جس پر ہم نے سائیکلنگ کو چار دیواری میں محدود کر دیا۔

یہ ٹریننگ بہار کالونی کے سرکاری اسکول کی باؤنڈری وال کے اندر ہونے لگی۔ لیکن سات ماہ کے بعد اسکول کی پرنسپل نے ہمیں کہا کہ ہم پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے اس لئے آپ یہ ٹرینینگ ختم کردیں۔ پرنسپل نے دباؤ ڈالنے والوں کا نام ظاہر نہیں کیا اس کے بعد لڑکیوں کو وہاں سے ہٹا کر ادارے نے کسٹم ہاؤس کی بیرونی حدود میں اجازت لیکر اتوار کے اتوار ٹرینینگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

سمیر میندھرو کہتے ہیں کہ ’’مجھ پر الزام لگایا گیا کہ ’عورت مارچ‘ میں، میں علاقے کی ضرورتمند خواتین کو بہکا کر لے گیا کہ وہاں راشن کی تقسیم ہے۔ اگر میں اتنا بڑا جھوٹ بولوں اور خواتین راشن لئے بنا واپس بھی آجائیں تو کیا کمیونٹی میں، میں بدنام نہیں ہوں گا؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہماری سائیکلنگ کرنے والی بچیاں مارچ میں شریک تھیں اور انکے والدین نے انھیں شرکت کی اجازت دی تھی اور اس مارچ میں میرے علاوہ لیاری سے بہت سے لوگ بھی گئے تھے۔ اب بھی جو لڑکیاں سائیکل چلا رہی ہیں وہ اپنے والدین کی مرضی اور منشا سے چلا رہی ہیں‘‘۔

تاہم، اس مارچ کے بعد سے اچانک ہی میرے خلاف علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی کے بھائی اور انکے ساتھیو ں نے سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز کردیا جس پر ایم پی اے، عبدالرشید نے بھی جواب دیے۔

سمیر کہتے ہیں کہ ’’ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہب ایک حساس معاملہ ہو وہاں مذہب کو میرے ساتھ جوڑ کر میری کردار کشی کرنا میرے لئے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب ہم عورتوں اور بچوں پر کام کر رہے ہوں۔ ہم اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس کا اثر اس ادارے پر بھی پڑ رہا ہے‘‘۔

اس وقت ’لیاری گرلز کیفے‘ میں مختلف کورسز تو جاری ہیں۔ لیکن، گزشتہ دو سے تین ہفتوں کے دوران جس طرح کے معاملات سنگین ہوئے ہیں اس سے لگتا ایسا ہے کہ خواتین کی سرگرمیاں محدود ہوگئی ہیں؛ گو کہ خواتین کو براہ راست کسی نے اس ادارے میں آنے سے نہیں روکا۔ لیکن جس طرح کی بازگشت مندرہ محلے اور بہار کالونی میں جاری ہے وہ ہر کسی کے گھر میں موضوع بحث ضرور ہے‘‘۔

سوشل میڈیا پر لگائی جانے والی پوسٹس تو ایک جانب ہیں؛ تو دوسری جانب کچھ افراد کی جانب سے محلے کی مساجد کو خطوط لکھ کر معاملے کو مزید متنازع اور پیچیدہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جس کی وجہ سے مذہب کو اس ناپسندیدگی کے معاملے میں جوڑ دیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ رکن صوبائی اسمبلی سید عبدالرشید سے بھی انکا موقف لینے کے لئے پہنچا تو انھوں نے پہلے یہ کہا کہ ان کا تعارف تو سمیر میندھرو نامی شخص سے دس بارہ روز پہلے میڈیا کے ذریعے ہوا ہے۔ لیکن، تھوڑی دیر بعد انھوں نے کہا کہ انھیں علاقہ مکینوں کی جانب سے لڑکیوں کی سائیکلنگ پر خاصی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اور یہاں کے لوگوں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے، جسے وہ سن رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا انھیں یہ شکایت کسی بھی فرد کی جانب سے تحریری طور پر موصول ہوئی؟ ان کا جواب نفی میں تھا۔ لیکن، وہ اسکی تعداد سینکڑوں میں بتاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’لیاری میں مختلف کلچر اور زبان کے لوگ بستے ہیں جو کہ اسلام پسند بھی ہیں۔ یہاں 77 فلاحی ادارے خواتین کے لئے کام کر رہی ہیں جن میں پانچ انڈسٹریل ہوم اور 35 مدارس میری سرپرستی میں چل رہے ہیں‘‘۔

عبدالرشید کا کہنا ہے کہ ’’اسپورٹس کے حوالے سے بہت سے اسکول ہیں جہاں بچیاں حصہ لیتی ہیں۔ اگر یہ باؤنڈری وال میں ہو رہی ہے تو اچھی بات ہے۔ لیکن، اگر ایک لڑکی کو پچیس مردوں کے درمیان دوڑایا جائے تو یہ مناسب نہیں ہے۔ میں جمہور کا نمائندہ ہوں اور اسکی ترجمانی کر رہا ہوں۔ مجھے درجنوں کے حساب سے آئمہ مساجد سے جنھوں نے ایسی سرگرمیوں کو ناپسند کیا مجھ سے جواب طلب کر رکھا ہے‘‘۔

اس سوال پر کہ 40 سے زائد لڑکیاں جنکو اپنے گھروں سے اجازت حاصل ہے کہ وہ سائیکل چلائیں کیا انھیں کچھ لوگوں کی ناپسندیدگی کی وجہ سے روکنا درست اقدام ہے؟ اس پر عبدالرشید کا کہنا تھا کہ یہاں دس لاکھ خواتین رہتی ہیں اور اگر کوئی چالیس پچاس خواتین یہ کام کرنا چاہتی ہیں تو یہ جمہور نہیں ہے یہ انکی انفرادی خواہش ہے۔ تو اپنا شوق کسی باؤنڈری وال میں پورا کرلیں اسے اکثریت پسند نہیں کرتی۔ خواتین کی ترقی فٹبال اور سائیکلنگ میں نہیں ہے۔ جو لڑکیاں وسائل نہیں رکھتیں انکی تعلیم پر توجہ دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر سمیر میندھرو کو کوئی شکوہ ہے تو وہ مجھ سے آکر ملیں وہ زیادہ دور نہیں رہتے۔ آئیں آکر بیٹھیں معاملے کا حل نکالیں میں حاضر ہوں۔ لیکن میں غیر ملکی فنڈنگ کرنے والی این جی اوز کو کہوں گا کہ اگر وہ خواتین کی ترقی پر کام کرنا چاہتے ہیں تو ان کی تعلیم پر کام کریں۔ انکے لئے پارکس بنائیں، درسگاہیں بنائیں، میں انکا ساتھ دوں گا۔ لیکن ان معاملات میں آنا جن میں چپقلش پیدا ہو، وہ نہ کریں ترقی کرنے کے اور بھی کام ہیں فٹ بال اور سائیکلنگ سے ان خواتین کی ترقی نہیں ہوگی‘‘۔

ایم پی اے کے بھائی سید جواد شعیب پچھلے 12 برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے خود پر سوشل میڈیا پر ’لیاری گرلز کیفے‘ کے خلاف مہم چلانے کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ سائیکلنگ کی اسکول کے اندر ہونے کی اجازت انھوں نے ہی لیاری گرلز کیفے کو دلوائی تھی، کیونکہ وہ سرکاری اسکول کی انتظامیہ کی کمیٹی میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ، ’’باوجود اسکے کہ لوگوں نے اعتراض کیا میں پھر بھی ساتھ کھڑا رہا۔ لیکن، اب اگر پرنسپل نے منع کیا تو میں اس بات سے لاعلم ہوں۔ انھیں یہ اعتراض ہے کہ پچھلے کچھ ہفتوں میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے اپنی رپورٹس میں لیاری کی عورت کو گُھٹی ہوئی مظلوم اور محکوم دکھایا، جب کہ ایسا نہیں ہے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’یہاں کسی نے کسی پر بھی پابندی نہیں لگائی۔ مجھ پر الزام ہے کہ میں نے دھمکیاں دی ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ لڑکیاں اگر سائیکل چلانا چاہتی ہیں تو وہ شوق سے چلائیں۔ انھیں کوئی گراؤنڈ مہیا کیا جائے یا کوئی کمیونٹی سینٹر دیا جائے۔ میں اسکے خلاف نہیں ہوں‘‘۔

جواد شعیب کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا معاشرہ نہ تو پڑھا لکھا ہے نہ ان پڑھ،۔ جب ایسی کوئی سرگرمی شروع کی جاتی ہے تو اس پر ردعمل آتا ہے۔ ایسے میں سب کو ساتھ لیکر چلنا چائیے۔ کرنے والوں کو بھی یہ سوچنا چائیے کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہیں۔ اسے سب کے اعتراضات دور کرنا چائیے۔ کیونکہ، ہر ایک کا اپنا نظریہ ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے لیاری گرلز کیفے کا نام نہیں لیا نہ سائیکلنگ کا ذکر کیا صرف ایک پوسٹ ڈالی کہ اسلامی اقدار کے خلاف جو این جی اوز کام کر رہی ہیں انھیں بے نقاب کریں اور والدین ارد گرد نظر رکھیں‘‘۔

بقول اُن کے، ’’میں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ اگر لیا ہے تو ثابت کریں۔ میں کسی کو روکنے یا پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور اگر مجھے روکنا ہوگا تو میں قانونی طریقہٴ اختیار کروں گا۔ مجھ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG