رسائی کے لنکس

logo-print

لیاری: دھماکوں، ہتھیاروں اور بارُود کے سائے میں پنپتا بچپن


کئی بچوں کی تو نفسیات ہی بدل گئی ہے جبکہ کئی بچے ایسے ہیں جنہیں شام ہوتے ہی انجانا سا خوف آگھیرتا ہے، وہ پچھلی رات کے خوفناک دھاکوں کو یاد کرتے ہی کانپ اٹھتے ہیں۔

روز روز کے ہنگاموں، مظاہروں، دھماکوں اور گولیوں کی تڑٹراہٹ سے لیاری میں بسنے والے معصوم بچوں میں منفی رجحانات پیدا ہونے لگے ہیں۔حالیہ برسوں میں یہ واقعات اس قدر تواتر سے ہوئے ہیں کہ کم عمر بچے بارود کی بو سے آشنا ہوکر خطرناک ہتھیاروں سے کھیلنے کا شوق رکھنے لگے ہیں۔
لیاری کے دورے کے موقع پر وی او اے کے نمائندے کو مختلف والدین اور دیگر رہائشیوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق کئی بچوں کی تو نفسیات ہی بدل گئی ہے جبکہ کئی بچے ایسے ہیں جنہیں شام ہوتے ہی انجانا سا خوف آگھیرتا ہے، وہ پچھلی رات کے خوفناک دھماکوں کو یاد کرتے ہی کانپ اٹھتے ہیں۔ خالی خالی نگاہوں سے وہ گھرکے کونوں میں چھپنے کے لئے ایسی جگہ تلاش کرتے ہیں جہاں انہیں دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں نہ سنائی دیں مگر نظریں ہر بار مایوس ہو کر پلٹ آتی ہیں۔
کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے ہنگورہ آباد لیاری کی کم سن فاطمہ کے اسکول کے باہر نامعلوم شر پسندوں نے صبح ہی صبح ایک لاش پھینک دی۔ پولیس کی آمد سے پہلے ہی اسکول لگنے کا وقت ہوگیا لہذا جو بچہ بھی ادھر سے گزرا اس کے ذہن میں یہ واقعہ محفوظ ہوتا چلا گیا۔ ہر بچہ خوف زدہ تھا یہاں تک کہ ڈر کے عالم میں ہی سارا دن گزر گیا۔
اگلے دن جب حالا ت تھوڑے بہتر ہوئے تو ایک اور سانحہ ہو گیا۔ دوسری جماعت کی سُنبل اپنی کلاس میں بیٹھی کر سبق یاد کر رہی تھی کہ اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔ دندناتی گولیوں سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر چاروں طرف بکھر گئے۔خوف سے کانپتے بچوں کوانتظامیہ نے آنا ًفاناً سائنس لیب میں منتقل کردیا۔
معصوم سی سنبل جو پہلے ہی گزشتہ روز کے واقعے سے خوفزدہ تھی، لیب میں نویں کلاس کے پریکٹیکل کے لئے رکھے گئے نقلی انسانی ڈھانچے کو دیکھ کر زور زور سے چیخنے لگی۔ اسے لگا یہ بھی کوئی ایسی ہی لاش ہے جسے کسی نے مار کر اسکول کے باہر پھینک دیا تھا۔
اس واقعے کے دو دن بعد تک اسکول کو بند رکھا گیا۔ تیسرے دن یعنی جمعرات13جون کو اسکول جانے والے سہمے سہمے بچے ابھی گھروں سے نکلے ہی تھے کہ انہیں گھر واپس بھیج دیا گیا۔
وجہ یہ تھی کہ بہاری کالونی میں اسکول کے سامنے ایک بار پھر فائرنگ ہوئی اور اسی اسکول میں پڑھنے والی معصوم سات سالہ ایک بچی ان گولیوں سے زخمی ہو گئی جبکہ آگرہ تاج میں رہنے والی اس بچی کو روز انہ اسکول لانے والا باپ ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ کر چلا گیا۔
بچے پھر بچے ہوتے ہیں، ذرا سا حالات سنبھلتے ہیں تو کھیل کود میں گم ہو جاتے ہیں۔۔۔لیکن لیاری کے بچوں کے کھیل بھی حالات کے ہاتھوں بدل گئے ہیں۔ جب فائرنگ رکتی ہے تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کرگلیوں میں، مکانوں کے آس پاس، گھروں کے صحنوں اور چھتوں پر پڑے گولیوں کے خول اکھٹے کرتے ہیں۔۔ پھر انہیں باری باری گنتے ہیں جو سب سے زیادہ خول جمع کرتا ہے وہ جیت جاتا ہے۔۔
بے شمار بچے ایسے ہیں جو تحفے میں پلاسٹک کی ہی سہی، کھلونا پستول خریدکر اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں پہاڑے اچھی طرح یاد ہوں نا ہوں۔۔ ٹی ٹی ، کلاشنکوف، رپیٹر اور ماؤزر جیسے آتشی ہتھیاروں کے نام ازبر ہوگئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جتنی مرتبہ دستی بموں کے دھماکے ہوتے ہیں بچے انہیں گنتے چلے جاتے ہیں۔۔۔انہیں جمع تفریق کرتے ہیں گویا ’ریاضی‘ کی پریکٹس کررہے ہوں۔۔۔
ان بچوں کے کھیل میں اب پولیس شیلنگ سے بچنے کے لئے منہ پر نقاب باندھنا بھی شامل ہوگیا ہے۔۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ مظاہروں میں لڑکوں کو منہ پر رومال باندھے دیکھتے ہیں۔۔
لیاری کے یہ بچے کنچوں کی جگہ گولیوں کے خول اور ریاضی کی جگہ دھماکوں کی آوازوں کو ’زندگی کا سبق‘ سمجھتے ہوئے جوان ہورہے ہیں۔۔۔ یہ حالات معصوم ذہنوں میں’ بارود‘ بورہے ہیں۔۔۔ کیا کسی نے سوچا ہے کہ جس روز بارود کی یہ کھیتی تیار ہوگی، کیا ہوگا؟
XS
SM
MD
LG