رسائی کے لنکس

پوٹن اور زیلنسکی سے ملاقاتیں:فرانسیسی صدر میخواں کا یوکرین کشیدگی میں پیش رفت کا دعویٰ


یوکرین کے صدر زیلنسکی اور فرانسسی صدر ایمانوئل میکرون کیف میں ملاقات کے دوران۔ 8 فروری، 2022ء
یوکرین کے صدر زیلنسکی اور فرانسسی صدر ایمانوئل میکرون کیف میں ملاقات کے دوران۔ 8 فروری، 2022ء

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے پیر اور منگل کے روز کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے دارالحکومت کیف میں صدر زیلنسکی سے ملاقاتیں کی ہیں، جن کا مقصد یوکرین روس سرحد پر کشیدگی میں کمی لانا ہے، جس کے لیے کئی عالمی راہنما اور سفارت کار کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ تناؤ روس کی جانب سے ایک لاکھ سے زائد فوج یوکرین کی سرحدوں کے ساتھ تعینات کرنے کے بعد نمودار ہوا ، جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ روس یوکرین پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یوکرین میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، میکرون نے بتایا کہ صدر پوتن کے ساتھ بات چیت سے وہ بحرانی صورت حال اور تناؤ میں کمی کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

پیر کو ایک ٹوئٹ میں یوکرین کے وزیر خارجہ دمترو کلیبا نے کہا کہ ان کا ملک سفارتی حل تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن کسی کو یوکرین کی سرخ لکیروں کو پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ یوکرین کسی طور پر بھی اپنی سالمیت اور علاقائی یکجہتی کےمعاملے پر کوئی رعایت نہیں دے سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک ڈونیسک اور لہانسک کے مشرقی صوبوں پر روسی جارح انتظامیہ'' کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا؛ اور یہ کہ یہ حق صرف یوکرین کو حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کو کس طرح سے مرتب کرنا چاہتا ہے۔

پیر کے روز میکرون سے ملاقات کے بعد پوتن نے کہا کہ روس کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ یوکرین کےمعاملے پر مغرب کےساتھ تناؤ میں کمی لانے کا بہترین حل تلاش کرے۔ بقول ان کے، جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم ایسا سمجھوتہ طے کریں گے جس میں سب کا فائدہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ اگر یورپی براعظم میں جنگ چھڑجاتی ہے تو اس کا فاتح کوئی بھی نہیں ہو گا۔

اپنے اتحادی بیلاروس کی مدد سے روس نے یوکرین کی مشرقی سرحد کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں جس کے باعث مغرب میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ پوتن کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر دیں گے۔

فرانس، امریکہ اور نیٹو کے دیگر اتحادیوں نے روس کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یوکرین مغربی دفاعی اتحاد یعنی نیٹو کا رکن نہیں بنے گا، جسے جنگ عظیم دوم کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

دوسری جانب، امریکی صدر جوبائیڈن نے پیر کے روز کہا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو یورپین گیس پائپ لائن، 'نودڈ اسٹریم 2' کو آگے بڑھنے سے روکا جائے گا۔ انھوں نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر اولاف شلز سے ملاقات کے دوران کہی ہے، جو اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں۔

بائیڈن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ یہ سوچنا کہ روسی ٹینکوں یا فوج کی مدد سے حملہ کرکے ' نورڈ اسٹریم 2 'کو مکمل کیا جائے گا ، محض خام خیالی ہے۔

شلز نے کھل کر یہ بات نہیں کہی کہ جرمنی پائپ لائن کا منصوبہ منسوخ کر دے گا، لیکن انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہم ضروری اقدام کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر روس نے حملہ کیا تو ہمارا رد عمل فوری اور متحد نوعیت کا ہوگا۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ جرمنی سب باتیں وقت سے پہلے عام نہیں کیا کرتا۔

امریکی محکمہ خارجہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ یوکرین میں تعینات غیر ضروری ملازمین اپنے اہل و عیال کے ہمراہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔

اپنی بات چیت کے آغاز میں ہی شلز اور بائیڈن نے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات کی نشاندہی کی۔ لیکن یوکرین کی مدد کرنے کے اعتبار سے دونوں ملکوں کا طریقہ کار مختلف ہے۔ امریکہ نے کیف کو اسلحہ روانہ کیا ہے جب کہ جرمنی یوکرین کو پانچ ہزار 'ہیلمٹس ' بھیج رہا ہے جس کی یوکرین نے خواہش کی تھی، جب کہ ایک مدت سے جرمنی اپنےاس مؤقف پر قائم رہاہے کہ وہ تنازع کے شکار کسی علاقے کو اسلحہ برآمد نہیں کرے گا۔

پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے پیر کے روز کہا ہے کہ پوٹن نے اپنے عزائم جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اختتام ہفتہ روس نے مزید فوج یوکرین کی سرحد کے ساتھ تعینات کردی ہے۔

کربی نے کہا کہ'' صف آرائی پر تلے ہوئے مسٹر پوتن نے فوج کی تعداد میں مزید اضافہ کیا ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے وہ آئے دن اپنے آپشنز میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں''۔

(اس خبر میں شامل مواد ایسو سی ایٹڈ پریس، ایجنسی فرانس پریس اور رائٹرز سے لیا گیا ہے)

XS
SM
MD
LG