رسائی کے لنکس

logo-print

ہیری اور میگھن کے مجسمے کہاں گئے؟


فائل فوٹو

شہزادہ ہیری اور میگھن مرکل کے شاہی زندگی کو خیرباد کہنے کے اعلان کو چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ لندن کے مادام تساؤ عجائب گھر نے ان کے مومی مجسمے ہٹا دیے۔

شاہی جوڑے کے مجسمے ان کی شادی سے پہلے نمائش کے لیے پیش کیے گئے تھے۔ ان کی شبیہیں ملکہ الزبتھ، پرنس فلپ، پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن کے مجسموں کے ساتھ موجود تھیں۔

عجائب گھر کے جنرل منیجر اسٹیو ڈیویز نے ایک بیان میں کہا کہ دنیا بھر کی طرح ہم نے بھی اس حیران کن خبر پر ردعمل ظاہر کیا کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ شاہی حیثیت سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ آج سے ان کے مجسمے عجائب گھر کے شاہی خاندان کے ساتھ نظر نہیں آئیں گے۔ انتہائی مقبول اور ہر دلعزیز شخصیات ہونے کی وجہ سے ان کے مجسمے ہمارے عجائب گھر کا حصہ رہیں گے لیکن ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی نئی زندگی میں کون سا باب شروع ہونے والا ہے۔

لندن کی طرح نیویارک کے مادام تساؤ میوزیم سے بھی ان دونوں کے مجسموں کی نمائش بند کر دی جائے گی۔ دوبارہ نمائش کا فیصلہ ہونے پر انھیں کسی اور شعبے میں رکھا جائے گا۔

میگھن مرکل کے مومی مجسمے گزشتہ سال مادام تساؤ میوزیم میں رکھے گئے تھے۔ ہر مجسمے پر ایک لاکھ پچانوے ہزار ڈالر لاگت آئی تھی۔

شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ کی طرف سے شاہی حیثیت کو خیر باد کہنے کے حوالے سے یہ سوال ابھرا ہے کہ وہ کنیڈا میں رہیں گے یا پھر امریکا میں اور ان کی آمدنی کے ذرائع کیا ہوں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ نئی صورت حال میں ان کی سیکورٹی کے اخراجات کون ادا کرے گا۔

شہزادہ ہیری اور میگھن اپنے بیٹے آرچی کے ساتھ
شہزادہ ہیری اور میگھن اپنے بیٹے آرچی کے ساتھ

میگھن کنیڈا پہنچ چکی ہیں جہاں وہ اپنی بیٹے آرچی کے ساتھ کچھ وقت گذارنا چاہتی ہیں۔ اس جوڑے نے سال 2019 کے آخری چھ ہفتے کنیڈا میں گذارے تھے۔ برطانیہ واپس لوٹتے ہوئے وہ اپنے بیٹے آرچی کو کنیڈا ہی میں چھوڑ آئے تھے۔

برطانیہ لوٹنے کے بعد ان کے شاہی حیثیت سے علیحدہ ہونے کے اچانک اعلان پر مبینہ طور پر ملکہ الزبتھ، ان کے والد پرنس چارلس اور شاہی خاندان کے دیگر افراد نے حیرت اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شاہی خاندان اس فیصلے کے بعد اس کا بہتر حل تلاش کرنے کیلئے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG