رسائی کے لنکس

logo-print

میڈونا کی زیر سرپرستی ’ڈریم اسکول‘ کی تعمیر


معروف پاپ گلوکارہ نے پیر کے روز سوشل میڈیا سائٹ پر اپنے 'ڈریم اسکول' کی تصویر پوسٹ کی، جس میں اُنھوں نے بتایا ہے کہ اسکول کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ یہ اسکول لڑکیوں کی تعلیم کیلئے شروع کیجانے والی مہم ’رے آف لائٹ' پراجیکٹ کا حصہ ہے

کراچی: عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ، میڈونا کی امداد سے کراچی میں ’ڈریم اسکول‘ کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے۔

میڈونا کےخوابوں کا یہ اسکول، سندھ کے دارلحکومت کے مضافات میں واقع ایک گوٹھ میں قائم ہے، جہاں غریب و نچلے طبقے کی لڑکیاں تعلیم حاصل کریں گی۔

معروف پاپ گلوکارہ نے پیر کے روز سوشل میڈیا سائٹ پر اپنے 'ڈریم اسکول' کی تصویر پوسٹ کی، جس میں وہ لکھتی ہیں کہ اسکول کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔

میدوڈنا کے ذاتی سوشل میڈیا اکاوٴنٹ پر مزید لکھا ہے کہ 'پاکستان میں محبت کا انقلاب 'جاری' ہے۔

کراچی میں قائم کیا گیا یہ اسکول لڑکیوں کی تعلیم کیلئے شروع کیجانے والی مہم ’رے آف لائٹ' (روشنی کی ایک کرن) نامی پراجیکٹ کا حصہ ہے۔

گزشتہ سال، میڈونا کی آفیشل ویب سائٹ ’میڈونا ڈاٹ کام' پر جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق، میڈونا نے کراچی میں لڑکیوں کے اسکول کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔

میڈونا نے لندن میں ہونے والے ایک لائیو کانسرٹ میں اس مہم کا بذات خود آغاز کیا تھا۔

میڈونا کی مالی امداد کے ذریعے کراچی کے مضافاتی علاقے مواچھ گوٹھ میں حمیرا بچل کے ادارے، ’ڈریم فانڈیشن ٹرسٹ‘ کی جانب سے اس اسکول کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں، ڈریم فانڈیشن ٹرسٹ کی سربراہ حمیرا بچل نے بتایا کہ ’اسکول کا نام ڈریم ماڈل اسڑیٹ اسکول رکھا گیا ہے، جہاں 940 لڑکیاں اور لڑکے زیر تعلیم ہیں۔

حمیرا نے مزید بتایا کہ اس کے نچلے حصے کی تعمیر ڈریم فاوٴنڈیشن کی جانب سے کی گئی، جبکہ اسکول کی بقیہ تعمیر میڈونا کی تنظیم کی جانب سے کی گئی مالی امداد کی جانب سے مکمل ہوئی ہے۔

حمیرا نے بتایا کہ مواچھ گوٹھ کی آبادی دو سے ڈھائی لاکھ افراد پر مشتمل ہے جہاں سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال نہایت ابتر ہے۔

آبادی کے آخری حصے پر صرف ایک ہی اسکول موجود ہے جو بنیادی سہولیات سے محروم ہے، اساتذہ تو ہیں، مگر اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں غیر فعال ہیں۔

حمیرا کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف اسکول کی عمارت نہیں ہے مگر وہاں مختلف زبانوں اور ذاتوں کے لوگ آباد ہیں جو زیادہ تر دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے طبقے میں لڑکیوں کی تعلیم ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے حل کیلئے وہ اپنے علاقے مواچھ گوٹھ میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے اور اسے عام کرنے کیلئے کافی پرعزم ہیں۔

میدونا نے ایک براہ راست کانسرٹ کے ذریعے یہ پیغام عام کیا تھا کہ وہ اپنی بنائی ہوئی ’رے آف لائٹ' نامی فلاحی تنظیم کے ذریعے پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے تعاون کر رہی ہیں۔

رے آف لائٹ نامی میڈونا کی این جی او دنیا بھر میں ایسی تنظیموں کو سپورٹ کرتی ہے جو تعلیم، برابری کے حقوق اور امن کیلئے اپنے ملک میں کام کررہی ہیں۔ اسی کے تعاون سے کراچی میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے کام کرنےوالی غیر سرکاری تنظیم، ڈریم فاونڈیشن ٹرسٹ کے ذریعے یہ اسکول تعمیر کیا گیا ہے۔

گزشتہ سال میڈونا نے لائیو کانسرٹ میں کراچی میں غریب لڑکیوں کیلئے اسکول چلانےوالی ایک نوجوان حمیرا بچل کے ساتھ ملکر ایک معاہدہ کیا تھا جسے اپنی جدوجہد کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرکے اسکول بنانا چاہتی تھیں۔ میڈونا کا کہنا تھا کہ حمیرا بچل نے اسکول کا ایک فلور بنالیا ہے، جبکہ اسکی مزید تعمیر کا ذمہ وہ اپنے اوپر لیتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG