رسائی کے لنکس

بھارت مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے قیام میں کردار ادا کرے۔ محمود عباس


فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھارتی وزیرِ اعظم نرندر مودی اور صدر پرنب مکھر جی۔

نئی دہلی۔ سہیل انجم

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اس وقت بھارت کے دورے پر ہیں۔ انھوں نے منگل کے روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ وفود سطح کے مذاکرات کیے۔ مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے مابین زراعت، صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت پانچ معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔

دونوں رہنماوں نے مذاکرات کے دوران باہمی تعلقات اور علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں بھارتی وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ”مغربی ایشیا کو لاحق چیلنجوں کو سیاسی مذاکرات سے دور کیا جانا چاہیے“۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”بھارت اور فلسطینی اتھارٹی مل کر اہلیت سازی کے میدان میں کام کریں گے اور راملہ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مرکز بنایا جائے گا“۔

اس سے قبل انڈیا اسلامک کلچر سینٹر نئی دہلی میں اپنے اعزاز میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ ”بھارت کو مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے“۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”بھارت کو چاہیے کہ وہ اسرائیلی قبضے کو ختم کرانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ بھارت اور اسرائیل میں قریبی تعلقات ہیں“۔

ایک سینئر تجزیہ کار اور صحافی ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”اب بھارت کو فلسطینی اتھارٹی سے کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی۔ 1992 سے ہی اس نے وہاں اپنی دلچسپی کم کرنی شروع کر دی تھی۔ اب اس کی تمام تر توجہ اسرائیل پر ہے“۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”بھارت کی دلچسپی اسرائیل سے تعلقات بڑھانے، وہاں سے اسلحہ خریدنے میں ہے۔ اسرائیل سے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک بھارت ہے۔ ابھی دس روز قبل اس نے اسرائیل کی تاریخ میں سب سے بڑا کنٹریکٹ کیا ہے۔ اس نے اس سے دو ہزار ملین ڈالر کا اسلحہ خریدا ہے“۔

ظفر الاسلام خاں نے مزید کہا کہ ”جب بھی بھارت سے کوئی اسرائیل جاتا تھا تو فلسطینی اتھارٹی بھی جاتا تھا۔ لیکن ایسا پہلی بار ہوگا کہ اگلے ماہ جب مودی اسرائیل جائیں گے تو وہ وہاں نہیں جائیں گے۔ یہ بھارت کی روایت کے خلاف ہے“۔

اس سے قبل راشٹرپتی بھون میں صدر پرنب مکھرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے محمود عباس کا روایتی استقبال کیا۔ انھیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

محمود عباس بھارت کے چار روزہ دورے پر اتوار کے روز نئی دہلی پہنچے تھے۔ یہ ان کا تیسرا سرکاری دورہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG