رسائی کے لنکس

logo-print

چارسدہ: بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا مرکزی ملزم گرفتار


خیبر پختونخوا پولیس نے چارسدہ کے ایک نواحی گاؤں میں چند دن پہلے ایک بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر اسے قتل کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق 45 سالہ ملزم لعل محمد کا تعلق پشاور کے نواحی علاقے سردریاب کے گاؤں جبہ کورونہ سے ہے جب کہ اس کی نشان دہی پر جائے وقوعہ سے آلۂ قتل، بچی کے جوتے اور دیگر اشیا بھی برآمد ہوئی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون سلطان محمد خان، وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش اور ضلعی پولیس آفیسر محمد شعیب نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران مبینہ ملزم کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پیش کیا۔

ضلعی پولیس افسر محمد شعیب نے کہا کہ رپورٹ درج ہونے اور بچی کی نعش ملنے کے بعد پولیس نے فوری طور پر 388 گھروں اور ان کے مکینوں کے کوائف جمع کیے اور شک کی بنیاد پر گرفتاریاں بھی کیں۔

گرفتار کیے جانے والے مشتبہ افراد میں ملزم بھی شامل تھا۔ ان کے بقول دورانِ تفتیش تین دن قبل ملزم لعل محمد نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا تاہم میڈیکل رپورٹ آنے کا انتظار تھا۔

صوبائی وزیرِ قانون سلطان محمد خان نے ملزم کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر پوری قوم افسردہ ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ محمود خان کی طرف سے چارسدہ پولیس کے افسران اور اہل کاروں کی تعریف کی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ قانون نے کہا کہ قتل کے بارے میں پہلے ہی سے سزائے موت کا قانون موجود ہے جب کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے بارے میں قانون سازی پر کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے گھناؤنے جرائم میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ 250 سے زیادہ مشتبہ افراد میں سے صرف 15 افراد ابھی تک زیرِ تفتیش ہیں جب کہ باقی پہلے ہی رہا کیے جا چکے ہیں۔ اب ملزم کے علاوہ زیرِ تفتیش دیگر مشتبہ افراد بھی رہا کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چارسدہ میں حالیہ مہینوں میں کم سن بچی کو جنسی تشدد کے بعد قتل کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ قبل ازیں شب قدر کے علاقے میں ایک کم سن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا جس کے ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG