رسائی کے لنکس

logo-print

تحفظ نسواں قانون واپس لیا جائے: مذہبی جماعتوں کا مطالبہ


اس قانون میں عورتوں کے خلاف جسمانی و ذہنی تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے اور عورتوں کو تحفظ دینے کے لیے ایک جامع طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے حال ہی میں تحفظ نسواں سے متعلق بنائے جانے والے قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس قانون میں عورتوں کے خلاف جسمانی و ذہنی تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے اور عورتوں کو تحفظ دینے کے لیے ایک جامع طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

پاکستان کی بڑی اسلامی جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں تحفظ نسواں قانون اور پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد توہین مذہب کے قانون کے معاملے پر بھی بحث کی گئی۔

اس اجلاس کی صدارت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مزید غور کرنے کے لیے آئندہ ہفتے دوسرا اجلاس لاہور میں منعقد کیا جائے گا۔

تحفظ نسواں کے قانون پر نا صرف ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے بلکہ ملک کے مذہبی حلقے بھی اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ خواتین کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی سے ملک میں قوانین موجود ہیں اس لیے کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں تھی۔

جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سے موجود قوانین پر موثر عمل درآمد سے خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

" مرد اور عورت کے درمیان کسی تلخی کو اس حد تک لے جایا جائےجس کے بعد یہ باتیں تھانے (پولیس) تک پہنچ جائیں تو یہ خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنے گا اور پھر خاندان کو اکھٹا رکھنا ناممکنات میں سے ہو گا اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قانون پاکستان کے معمول کے قوانین سے متصادم ہے آئین سے متصادم ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ پاکستان کی اسلامی بنیاد کے بھی مخالف ہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس قانون کی ضرورت نہیں تھی"۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج اور خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن ماجدہ رضوی کا کہنا ہے کہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسے قوانیبن کی اشد ضرورت تھی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ " یہ عورتوں کی حفاظت کے لیے ہے تاکہ انہیں تحفظ حاصل ہو اور انہیں مردوں کے ظلم و ستم سے روک تھام اور اس کے ساتھ اس میں ایک طریقہ کار دیا گیا ہے کہ جس کے تحت متاثرہ خاتون شکایت کر سکتی ہے جس کے بعد ایسے آدمی کو سزا دی جا سکتی ہے۔۔یہ تمام چیزیں خواتین کے تحفظ کے لیے ہیں ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اسلام کے خلاف ہو"۔

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات معمول رہے ہیں جس میں نا صرف انھیں اکثر گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ وہ معاشرتی عدم تحفظ کا بھی شکار نظر آتی ہیں اور ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم حلقوں کی طرف سے پنجاب حکومت کے اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG