رسائی کے لنکس

logo-print

میچ فکسنگ کے بیشتر واقعات کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں: آئی سی سی


آئی سی سی کے عہدیدار رچرڈسن کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ہائی پروفائل بھارتی کرکٹر کا نام سامنے نہیں آ سکا ہے لیکن کھلاڑیوں اور بکیز کی ملی بھگت تاحال جاری ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ کے معاون اسٹیو رچرڈسن نے کہا ہے کہ آئی سی سی کا انسداد بدعنوانی یونٹ کرپشن سے متعلق کم از کم 50 معاملات کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ان میں سے بیشتر کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہے۔

آئی سی سی کے مطابق میچ فکسنگ سے متعلق تحقیقات میں بھی بھارت سب سے آگے ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

رچرڈ سن نے 'اسپورٹس لا اینڈ پالیسی' کے عنوان سے ہونے والے ایک آن لائن سیمینار سے خطاب کے دوران کہا کہ بدعنوانی میں ملوث عناصر نے انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کی طرح بڑے ایونٹس کو نشانہ بنانے کے بجائے اب ریاستی لیگز اور دوسرے براہ راست مقابلوں پر اپنی نظریں لگا لی ہیں۔

رچرڈ سن کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ہائی پروفائل بھارتی کرکٹرکا نام سامنے نہیں آ سکا ہے لیکن کھلاڑیوں اور بکیز کی ملی بھگت تاحال جاری ہے۔ اس سلسلے میں کھلاڑی ہی آخری سراغ ہیں۔

ان کے مطابق مسائل کی اصل جڑ وہ لوگ ہیں جو کرپشن کے حوالے سے نہایت منظم ہیں۔ جو کھلاڑیوں کو بڑی رقوم ادا کرتے ہیں اور جو میدان سے باہر ہوتے ہیں۔

رچرڈ سن کے بقول میں بھارتی خفیہ اداروں کو ایسے 8 نام بتا سکتا ہوں جو کھلاڑیوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں جب کہ وہ نہایت شاطر مجرم ہیں۔

رچرڈ سن کا کہنا تھا کہ سری لنکا پہلا ملک ہے جس نے میچ فکسنگ سے متعلق قانون ساز کی۔ ان قوانین کی بدولت سری لنکا میں کرکٹ بدعنوانی سے کسی حد تک محفوظ ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں قانون سازی سے متعلق کام جاری ہے لیکن بھارت میں کرکٹ سے متعلق بدعنوانی کے معاملات سے نمٹنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں۔ لہذا وہاں ہمارے (آئی سی سی کے) ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ تاہم اگر بھارت میں بھی قانون سازی ہوجاتی ہے تو یہ کسی نئی اور انقلابی تبدیلی سے کم نہیں ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG