رسائی کے لنکس

logo-print

مکہ: مسجد الحرام میں کرین گرنے سے 107 افراد ہلاک


تعیمراتی کام میں استعمال ہونے والی کرین گرنے سے 238 افراد زخمی بھی ہوئے۔ حکام کے مطابق جب یہ حادثہ پیش آیا، اُس وقت مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے ۔

سعوی حکام کا کہنا ہے کہ مکہ میں واقع مسجد الحرام میں توسیعی منصوبے کے دوران تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی ایک کرین گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 107 ہو گئی ہے جب کہ 238 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق جب یہ حادثہ پیش آیا، اُس وقت مسجد میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اس لیے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کرین گرنے سے قبل تیز ہوائیں اور موسلادھار بارش ہوئی۔

حج میں نو دِن باقی ہیں اور دنیا بھر سے لگ بھگ پانچ لاکھ کے قریب افراد سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور اِن دِنوں مکہ میں حج کی تیاریاں عروج پر ہیں۔

مسلمانوں کے لیے مقدس شہر مکہ کی تمام اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

سعودی شہری دفاع کے حوالے سے ایک اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں 18 پاکستانی بھی شامل ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ حادثے کے مقام پر ملبے کا ڈھیر لگ گیا ہے۔ حرم شریف کے احاطے کو وسیع کرنے کا کام کئی دِنوں سے جاری ہے۔

جدہ کے اخبار ’عرب نیوز‘ کے ایڈیٹر سراج وہاب نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ ’’حرم شریف میں مقام ابراہیم کی پچھلی جانب لگائی گئی کرین کے گرنے کے نتیجے میں پیش آیا۔ اس سے پہلے، طوفانی ہوائیں چلیں اور تیز بارش ہوئی۔‘‘

ادھر مسجد الحرام میں توسیعی کام سے وابستہ ایک پاکستانی ٹیکنیشن، محمد طاہر جو کہ اِس حادثے کے عینی شاہد ہیں، نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابھی ہلاک ہونے والوں کی شہریت کا پتا نہیں چلا۔

طاہر نے بتایا کہ یہ ’ماسٹر کرین‘ صفا اور مروا کی طرف حرم سے باہر نصب تھی، جس کی لمبائی 300 سے 400 میٹر تھی۔

اُنھوں نے بتایا کہ طوفانی بارش کے باعث ماسٹر کرین کا توازن بگڑا اور وہ حرم شریف کے اندر طواف کرنے والے نمازیوں پر گری، جس سے یہ اموات واقع ہوئیں۔

جدہ میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل، آفتاب احمد کھوکر نے اردو سروس کو بتایا ہے کہ کسی پاکستانی حاجی کی ہلاکت کے بارے میں ’ابھی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے واضح ہدایات مل چکی ہیں کہ جتنی امداد ممکن ہو کی جائے اور اس مقصد سے وہ جدہ سے مکہ جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG