رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گرد علم اور عورت سے خوف زدہ ہیں، ملالہ یوسف زئی


خصوصی تقریب کا انعقاد جمعے کو ہونے والی ملالہ یوسف زئی کی سولہویں سالگرہ کی مناسبت سے کیا گیا تھا جسے اقوامِ متحدہ نے 'انٹرنیشنل ملالہ ڈے' قرار دیا ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ دہشت گرد علم، عورت اوت تبدیلی سے خوف زدہ ہیں اور اسلام اور پشتونوں کو بدنام کر رہے ہیں۔

جمعے کو 'عالمی یومِ ملالہ' کے موقع پر نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں منعقد ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 16 سالہ پاکستانی طالبہ نے دنیا پر زور دیا کہ وہ امن کےلیے اپنی پالیسیاں تبدیل کرے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عورت کی آواز سے خوف زدہ ہیں اسی لیے انہوں نے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں استانیوں، طالبات اور پولیو ورکرز کو قتل کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کتابوں سے ڈرتے ہیں، خواتین سے ڈرتے ہیں اور خواتین کی آواز انہیں خوف زدہ کردیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قلم اور کتاب سب سے طاقت ور ہتھیار ہیں اور ایک طالبِ علم، ایک استاد، ایک قلم اور ایک کتاب دنیا تبدیل کرسکتے ہیں۔

ملالہ نے کہا کہ دہشت گرد سمجھتے تھے کہ وہ گولی مار کر انہیں ان کے مقصد سے روک دیں گے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے اور وہ آج اسی جذبے کے ساتھ اپنے مقصد کی خاطر کھڑی ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مہم چلانے والی ملالہ گزشتہ برس اکتوبر میں اس وقت ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں جب وہ اپنے آبائی شہر مینگورہ میں اسکول سے واپس گھر لوٹ رہی تھیں۔ حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ملالہ کو "ان کی مغرب نواز سرگرمیوں" کی وجہ سے نشانہ بنایا تھا۔

ملالہ کو بعد ازاں علاج کی غرض سے برطانیہ منتقل کردیا گیا تھا جہاں صحت یابی کے بعد انہوں نے اپنے اہلِ خانہ سمیت برمنگھم میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی خصوصی تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، جنرل اسمبلی کے صدر وُوک جیریمچ، عالمی تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب گورڈن براؤن اور نوجوانوں کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب احمد الہندوی کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے ایک ہزار سے زائد طلبہ و طالبات بھی شریک تھے۔

اس خصوصی تقریب کا انعقاد جمعے کو منائی جانے والی ملالہ یوسف زئی کی سولہویں سالگرہ کی مناسبت سے کیا گیا تھا۔ ملالہ کی سال گرہ کو اقوامِ متحدہ نے 'انٹرنیشنل ملالہ ڈے' قرار دیا ہے جس کا مقصد دنیا کے ہر بچے کے لیے تعلیم کا حصول ممکن بنانے کی جدوجہد کو اجاگر کرنا ہے۔

اپنے خطاب میں ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ 'یومِ ملالہ' ہر اس شخص کا دن ہے جس نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ملالہ نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تعلیم کو عام کریں اور دہشت گردی اور انتہا پسندی سےلڑیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں قومیت، نسل اور رنگ کی بنیاد پر امتیاز بند ہونا چاہیے۔

اس موقع پر ملالہ یوسف زئی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو تعلیم سے محروم بچوں کے لیے اقدامات کرنے سے متعلق ایک درخواست بھی پیش کی جس پر 40 لاکھ لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔

درخواست میں عالمی رہنمائوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسکول جانے سے محروم دنیا کے ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد بچوں کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے فنڈز مختص کریں اور 'چائلڈ لیبر'، کم عمری میں شادیوں اور بچوں کی اسمگلنگ جیسے جرائم کے خاتمے کے لیے حکمتِ عملی بنائیں۔

اس سے قبل عالمی ادارے کے سربراہ بان کی مون نے اپنے خطاب میں ملالہ یوسف زئی کو ایک چیمپئن اور مشعلِ راہ قرار دیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی تعلیم کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی مندوب اور سابق برطانوی وزیرِاعظم گورڈن برائون نے کہا کہ عالمی ادارے میں ہونے والی تقریب صرف ملالہ کی سال گرہ اور صحت یابی کا جشن نہیں، بلکہ اس کا مقصد ان کے مشن کو اجاگر کرنا ہے۔
XS
SM
MD
LG