رسائی کے لنکس

'کوئی اور نہیں ہم خود ملک اور مذہب کا نام خراب کر رہے ہیں'


ملالہ یوسفزئی (فائل فوٹو)

ملالہ یوسفزئی نے اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ بعض پاکستانی اسلام کے پیغام امن کو بھول چکے ہیں۔

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے توہین مذہب کے الزام میں ایک پاکستانی طالب علم مشال خان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "وحشت اور دہشت بھرا" واقعہ قرار دیا ہے۔

جمعرات کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبا کے ایک گروہ نے مشال خان کو وحشیانہ طریقے سے زدوکوب کیا اور پھر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی نے اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ بعض پاکستانی اسلام کے پیغام امن کو بھول چکے ہیں۔ "یہ مشال خان کا جنازہ نہیں تھا یہ ہمارے دین کے پیغام امن کا جنازہ تھا۔"

ان کا کہنا تھا کہ پیغمبر اسلام نے کبھی اپنے پیروکاروں کو "صبر کا دامن چھوڑ کر لوگوں کو قتل کرتے پھرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔"

مشال خان کے قتل کے واقعے کی ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی شدید مذمت کی گئی ہے جب کہ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق پولیس کی طرف سے کی گئی ابتدائی تحقیقات میں تاحال ایسے شواہد سامنے نہیں آئے کہ مشال خان توہین مذہب کی کسی سرگرمی میں ملوث تھا۔

ملالہ یوسفزئی کا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ پاکستانی اکثر مغربی دنیا میں اسلاموفوبیا کی شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیگر ممالک "ہمارا نام خراب کر رہے ہیں۔" لیکن ان کے بقول "کوئی آپ کے ملک یا مذہب کا نام خراب نہیں کر رہا۔۔۔ہم خود اپنے ملک اور مذہب کا یہ تاثر دے رہے ہیں۔"

رواں ہفتے ہی ملالہ یوسفزئی کو اقوام متحدہ کی طرف سے "امن کی پیامبر" مقرر کیا گیا تھا۔ انھوں نے پاکستانی اداروں ور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مشال خان کے لواحقین کو انصاف دلانے کے لیے کھڑے ہوں۔

ملالہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے مشال خان کے والد سے فون پر بات کی اور انھوں نے بھی صبر اور امن کا پیغام دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG