رسائی کے لنکس

logo-print

ملالہ اور ڈاکٹر عبدالسلام کے ’نوبیل انعام‘ پاکستان کی پہچان


پاکستان کے لیے پہلا نوبیل انعام فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے 1979ء میں حاصل کیا تھا اور وہ مذہبی اقلیت احمدی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام جیتنے والی شخصیت ہیں جو بچیوں کے حق حصول تعلیم کے لیے اور انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے پر امن کے نوبیل انعام 2014ء کی حقدار قرار پائیں۔

ان کا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں بظاہر صنف نازک سے امتیازی سلوک ایک عمومی رویہ ہے اور کچھ ایسے ہی رجحان کی شکار پاکستان میں مذہبی اقلیتیں بھی ہیں۔

لیکن دنیا کا ایک معتبر ترین ایوارڈ "نوبیل" جیتنے والی دونوں پاکستانی شخصیات کا تعلق بھی "امتیازی سلوک" سے متاثرہ طبقوں سے ہے۔

پاکستان کے لیے پہلا نوبیل انعام فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے 1979ء میں حاصل کیا تھا اور وہ مذہبی اقلیت احمدی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔

17 سالہ ملالہ یوسفزئی اس سے قبل بھی کئی اہم بین الاقوامی ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں لیکن 21 اکتوبر کی شام انھیں امریکہ کے پہلے دارالحکومت فلاڈلفیا میں "لبرٹی میڈل" یعنی تمغہ آزادی سے بھی نوازا گیا۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں 1776ء میں امریکہ کے بابائے قوم جارج واشنگٹن نے اپنی فوج کے ہمراہ برطانوی حکمرانوں کے خلاف امریکی آزادی کا اعلان کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ امریکی آزادی کے وقت 92 فٹ بلند مینار پر لگا تانبے کا گھڑیال سارا دن اور ساری رات بجتا رہا اور اسی وجہ سے یہ گھڑیال، "آزادی کا گھڑیال" کہلانے لگا۔

ملالہ سے پہلے کئی شخصیات کو یہ تمغہ دیا جا چکا ہے۔ 1989ء میں لچ ویلسیا کو اس تمغے کا حق دار قرار دیا گیا جنہوں نے پولینڈ کے لوگوں کو آزادی دلائی۔ 1993ء میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی علامت سمجھے جانے والے نیلسن منڈیلا، امریکہ و روس کی سرد جنگ کی دیوار کو گرانے والے میخائیل گورباچوف کو 2008ء میں اور تین بار کے عالمی باکسنگ چیمپیئن محمد علی کو 2012ء میں یہ تمغہ دیا گیا۔ محمد علی امریکہ میں مذہبی و نسلی امتیاز کے خلاف بھی کردار ادا کر چکے ہیں۔

انتہا پسندی کے خلاف ملالہ کا کھڑے ہونا ایک حقیقت اور ایک علامت میں ہوچکا ہے۔

ملالہ کو تمغہ آزادی دیے جانے کے لیے منعقدہ تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات، طلبا، شہر کے میئر کی بیٹی اور گورنر کی اہلیہ بھی شریک ہوئیں۔

تقریب میں شریک چند طلبا جنہوں نے مختلف شعبوں میں انسانی حقوق و مساوات کےلیے کام کرکے اپنا نام پیدا کیا، نے ملالہ کی اس ڈائری سے اقتباسات پڑھے جو انھوں نے طالبان کے زیر تسلط علاقے میں تعلیم کے لیے کوششوں کے دوران لکھی۔

ملالہ کی آپ بیتی نے کرہ ارض کے کروڑوں طلبا میں ایک نئی روح پھونک دی ہے، کہ کس طرح ایک لڑکی نے مخالفت کے باوجود سب لڑکیوں کے لیے حق حصول تعلیم کےلیے بہادری دکھائی۔

اسی وجہ سے ملالہ کو "تمغہ آزادی" سے بھی نوازا گیا اور اس کے ساتھ ایک لاکھ ڈالر کی رقم بطور انعام بھی دی گئی۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملالہ کو ملنے والا آزادی کا یہ تمغہ، ملالہ ہم وطنوں، خصوصاً اقلیتوں اور عورتوں میں بھی آزادی کی لہر پیدا کر سکے گا یا نہیں؟ کیا ملالہ کے اس نعرے کی گونج "ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب، ایک قلم۔۔۔۔" پاکستان میں انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں بھی سنی جا سکے گی یا نہیں، جہاں اس کی حد ضرورت ہے؟

XS
SM
MD
LG