رسائی کے لنکس

logo-print

مشترکہ 'نوبیل پرائز' تعلقات کی بحالی میں معاون ہو سکتا ہے: امریکہ


محکمہٴخارجہ کی ترجمان کے بقول، پاکستان اور بھارت کا آپس میں بات چیت کرنا اور میل جول بڑھانا تعلقات میں بہتری لا سکتا ہے، جو ایک اچھی بات ہوگی۔

ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ستیارتھی کے لیے امن کے ’نابیل پرائز‘ دیے جانے پر امریکی محکمہٴخارجہ نے وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعظم نریندر مودی کو تپاک کے ساتھ مبارک باد پیش کرتے ہوئے اِس امید کا اظہار کیا ہے کہ اِس عالمی انتخاب کی خوشی منانا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے۔

اُن سے سوال کیا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے شہریوں کا امن کے عالمی انعام میں اشتراک، دونوں کے مابین ’وسیع تر مصالحت‘ کی کسی صورت کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

خاتون ترجمان، جین ساکی نے جمعے کے روز کہا کہ آپس میں بات چیت کرنا اور میل جول بڑھانا تعلقات میں بہتری لا سکتا ہے، جو ایک اچھی بات ہوگی۔

ترجمان نے 2014ء کے امن کے عالمی انعام کے اعلان پر دونوں ممالک کو گرمجوشی سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بچوں اور خواتین کے حالات کے ضمن میں خوش آئند ہے۔

ملالہ یوسف زئی کے بارے میں، ترجمان نے کہا کہ وہ دوسروں کے لیے باعث تقلید ہیں، باہمت اور حوصلہ مند ہیں، جن کی پذیرائی تعلیم کے آفاقی پیغام کے فروغ کا سبب بنے گی۔

ادھر، پاکستان بھارت سرحد پر کشیدگی سے متعلق ایک سوال پر، محکمہٴ خارجہ نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد حل ہے۔

خاتون ترجمان کے بقول، ’ہمیں لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر تشویش ہے‘، اور ’ہم دونوں فریق کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں کہ باہمی بات چیت کی راہ اختیار کی جائے‘۔

بقول جین ساکی، اِس بات کا تعین خود اِن ہی ملکوں کو کرنا ہوگا کہ مکالمے کا ’وقت، انداز یا دائرہ کار‘ کیا ہونا چاہیئے۔

ترجمان سے پوچھا گیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے معاملے پر، جِس کا الزام دونوں ایک دوسرے پر دیتے ہیں اور جِس کے نتیجے میں ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، کیا امریکہ کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG