رسائی کے لنکس

logo-print

ملالہ کا مغوی طالبات کے لیے ’یکجہتی، محبت اور امید‘ کا پیغام


ملالہ نے نائجیریا کے حکام اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اِن طالبات کی بازیابی کے لیے مزید کوششیں کریں، اور ’ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک آپ واپس نہیں آجاتیں، اور اپنے والدین سے نہیں ملتیں‘

نوبیل انعام یافتہ، ملالہ یوسفزئی نے سال گزر جانے کے باوجود نائجیریا کے شہر شبوک سے اغوا ہونے والی اسکول کی بچیوں کے بازیاب نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم آپ کو کبھی نہیں بھولے‘۔ اور، اِس عزم کا اظہار کیا کہ ’بین الاقوامی برادری ہمیشہ آپ کی رہائی کےلئے آواز بلند کرتی رہے گی‘۔

اُنھوں نے یہ بات اغوا کے واقعے کو پیر کے روز ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہی ہے۔

چودھ اپریل، 2014ء کو بوکو حرام کے دہشت گردوں کے ہاتھوں 276 اسکول کی بچیاں اغوا ہوئی تھیں۔

بقول ملالہ، ’مشمول میرے، دنیا بھر کے لاکھوں لوگ آپ کو بھولے نہیں۔ آپ ہم سب کی دعاؤں میں ہیں‘۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ’جو ظلم و ستم آپ نے جھیلا ہے، اُس کا کوئی اندازاہ نہیں‘۔

ملالہ نے نائجیریا کے حکام اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اِن طالبات کی بازیابی کے لیے مزید کوششیں کریں، اور ’ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک آپ واپس نہیں آجاتیں، اور اپنے والدین سے نہیں ملتیں‘۔

شبوک کی مغوی اسکول کی ’بہادر بہنوں‘ کے نام اپنے پیغام میں، ملالہ نے کہا کہ اُن کی طرح، خود اُنھیں بھی شدت پسندوں نے اِس لیے نشانہ بنایا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ بچیاں اسکول جائیں۔ ’مسلح افراد نے مجھے اور میرے ساتھ اسکول بس میں سوار، دو اور بچیوں کو گولی ماری تھی۔ لیکن، ہم حملے میں بچ گئے اور دوبارہ اسکول جانے لگی ہیں۔‘

ملالہ نے کہا کہ تمام لڑکیاں مناسب تعلیم کے حصول کا حق رکھتی ہیں، اور یہ ہماری یہ مہم تب تک جاری رہے گی جب تک دنیا بھر کی تمام لڑکیاں اور لڑکے آزادانہ، بحفاظت اور معیاری ثانوی تعلیم تک رسائی کا حق حاصل نہیں کر لیتے۔

ملالہ یوسفزئی نے یاد دلایا کہ گذشتہ جولائی میں اپنی سترہویں سالگرہ کے موقعے پر وہ نائیجیریا میں تھیں جہاں اُنھوں نے اغوا کاروں کے چنگل سے بچ نکلنے والی ہم جماعت پانچ بچیوں اور اُن کے والدین سے ملاقات کی تھی۔

اُنھوں نے یاد دلایاہا کہ وہ اُن کے والد نے نائجیریا کے صدر، گُڈلَک جوناتھن سے ملاقات کی تھی، جس دوران اُنھوں نے مغوی بچیوں کی جلد بازیابی کے لیے مزید کوششوں کی تاکید کی تھی۔ بقول اُن کے، ’میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ نائجیریا کے راہنماؤں اور بین الاقوامی برادری نے مغویوں کی بازیابی کے لیے ضروری کاوشیں نہیں کیں‘۔

ملالہ نے بتایا کہ نائجیریا کے نئے منتخب صدر، محمد بوہاری نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ مغوی بچیوں کی آزادی کے معاملے کو اولین ترجیح دی جائے گی؛ جب کہ اُن کی حکومت خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد روا رکھے جانے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا ہے وہ دن دور نہیں جب باقی 219 بچیاں گھر واپس آجائیں گی اور تعلیم سے وابستہ ہوجائیں گی، ’جِن کی دلیری اور تعلیم کے حصول کی تڑپ مثالی اور قابل رشک ہے‘۔

XS
SM
MD
LG