رسائی کے لنکس

logo-print

ملالہ یوسفزئی کا دورہ امریکہ، تعلیمی فنڈنگ میں اضافے کا مطالبہ


دنیا کی اب تک کی سب سے کم عمر نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اپنے والد ضیاالدین یوسفزئی کے ہمراہ گزشتہ ہفتے سے امریکہ کےدورے پر ہیں۔

سترہ سال کی عمر میں امن کا نوبیل انعام جیتنے والی پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسفزئی نے واشنگٹن میں کیپٹل ہل کا دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نےامریکی قانون سازوں سے تعلیم کے میدان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

'ملالہ فنڈز' کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق کیپٹل ہل کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر "تعلیم کے فروغ کی عالمی مہم کی سرگرم علم بردار ملالہ یوسفزئی اپنے ساتھ گولیاں نہیں کتابیں کا طاقتور پیغام لے کر آئی ہیں۔"

دنیا کی اب تک کی سب سے کم عمر نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اپنے والد ضیاالدین یوسفزئی کے ہمراہ گزشتہ ہفتے سے امریکہ کےدورے پر ہیں جہاں انھوں نے امریکی خاتون اول مشیل اوباما کی لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم کی مہم 'لیٹس گرل لرن' کی حمایت اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے فنڈنگ بڑھانے کےحوالے سے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے ارکان سے بات چیت کی ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے منگل کے روز بڑی تعداد میں امریکی سینٹ کے اراکین کے ساتھ ملاقاتیں کیں اوران سے عالمی سطح پر تعلیمی فنڈنگ میں اضافے کی اپیل کی۔

اس دورے سے پہلے ملالہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "وقت آگیا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے جرات مندانہ اور واضح اقدام کیا جائے اور دنیا بھر کی حکومتوں کی فنڈنگ اور معاونت کو بڑھایا جائے تاکہ 2030ء تک بارہ سال کی بنیادی اور ثانوی تعلیم کو مفت کیا جا سکے۔"

ملالہ یوسفزئی نے اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کو بتایا کہ امریکی قانون سازوں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں خوشگوار رہیں۔ انھوں نے کہا کہ "مجھے مثبت نتائج کی امید ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو میں بار بار آتی رہوں گی"۔

ملالہ یوسفزئی نے 24 جون کو ریاست کولو راڈو کے شہر ڈینور کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے بیلکو تھیٹر میں خواتین کی ایک خصوصی لیکچر سیریز سے خطاب کیا۔

بااعتماد ملالہ یوسفزئی نے ڈینور میں پانچ ہزار نفوس پر مشتمل مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اکتوبر 2012ء کی اس شام کا ذکر کیا جب سوات میں ان کی اسکول بس میں سوار ہونے والے مسلح عسکریت پسند نے سہمے ہوئے طالب علموں سے پوچھا تھا کہ بتاؤ تم میں سے ملالہ کون ہے ورنہ میں تم سب کو گولی مار دوں گا اور تب وہ دلیری سے آگے بڑھی تھیں اور کہا تھا کہ میں ملالہ ہوں۔

ملالہ نے ڈینور میں ہونے والی تقریب کو بتایا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ "اس روز میرے پاس صرف دو ہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ خاموش رہوں اور قتل ہونے کا انتظار کروں یا بولوں اور پھر اس کے بعد ماری جاؤں۔"

ملالہ یوسفزئی نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران جمعے کو سین ہوزے اسٹیٹ یونیورسٹی میں تقریبا چار ہزار لوگوں کے مجمع سے بھی خطاب کیا۔

اے بی سی نیوز کے مطابق ملالہ یوسفزئی نے 26 جون کی شام سین ہوزے اسٹیٹ یونیورسٹی میں گزاری، جہاں انھوں نے افغانستان سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف خالد حسینی کے ساتھ گفتگو میں حصہ لیا۔

ملالہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردوں کو عورتوں کی آزادی قبول نہیں ہے، وہ عورتوں کی تعلیم کے حق پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔"

انھوں نے کہا کہ "اگر آپ واقعی معاشرے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور اگر آپ یہ تبدیلیاں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو تبدیلی لانے کے لیے آگے قدم بڑھانا ہوگا۔"

ملالہ ان دنوں اپنی آنے والی دستاویزی فلم "ہی نیمڈ می ملالہ" کی تشہیر میں بھی مصروف ہیں۔ یہ فلم اکتوبر 2015ء میں ریلیز کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG