رسائی کے لنکس

logo-print

ملاوی میں بڑے پیمانے پر خوراک کی کمی کا خدشہ


اجناس کے تاجروں نے مکئی کی قیمت میں پانچ فیصد اضافہ بھی کر دیا ہے جس سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو جائے گی۔

خوراک کے متوقع کمیابی سے شمال مشرقی افریقی ملک ملاوی کی 17 فیصد آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور اسی تناظر میں صدر پیٹر متھاریکا نے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔

قوم سے اپنے خطاب میں صدر کا کہنا تھا کہ ملک کے 28 میں سے 25 اضلاع کے لوگ خوراک کی کمی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

"کل 28 لاکھ 33 ہزار 212 افراد خوراک کی اپنی سالانہ ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اسے مدنظر رکھتے ہوئے میں دیگر ملکوں، امدادی تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حکومت کی معاونت کریں۔"

صدر نے کہا کہ خوراک کے ضروریات سے متعلق تازہ ترین جائزہ رپورٹ وسط اکتوبر تک جاری کر دی جائے گی۔

"ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے ممکنہ طور پر جائزہ رپورٹ میں خوراک کی کمیابی کے شکار لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جتنی کہ اس وقت ہے۔"

ان کے بقول ملاوی کو خوراک کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے 15 کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہے۔

خوراک کی اس کمی کی وجہ حالیہ سیلاب ہیں جس کی وجہ سے 64 ہزار ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔

خوراک کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید ایک لاکھ بیس ہزار میٹرک ٹن مکئی کی بھی ضرورت ہو گی۔

صدر پیٹر کا کہنا تھا کہ فی الوقت ملاوی نے تیس ہزار میٹرک ٹن مکئی زمبیا سے خریدی ہے۔

اسی اثنا میں ملاوی میں اجناس کے تاجروں نے مکئی کی قیمت میں پانچ فیصد اضافہ بھی کر دیا ہے جس سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو جائے گی۔

XS
SM
MD
LG