رسائی کے لنکس

logo-print

بنکاک حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں پاکستانی سمیت تین افراد گرفتار


ملائیشیا کی قومی پولیس فورس کے سربراہ خالد ابو بکر نے بتایا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں پاکستان کا ایک اور ملائیشیا کے دو شہری شامل ہیں۔

ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ماہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ہونے والے بم حملے کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ملائیشیا کی قومی پولیس فورس کے سربراہ خالد ابو بکر نے پیر کو کوالالمپور میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں پاکستان کا ایک اور ملائیشیا کے دو شہری شامل ہیں، جن میں ایک خاتون بھی ہے۔

ملائیشیا کے حکام نے حراست میں لیے گئے پاکستانی شہری کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نا ہی پاکستان کی طرف سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

قومی پولیس فورس کے سربراہ خالد ابو بکر نے کہا کہ ملائیشیا ان افراد کو تھائی لینڈ کے حوالے کرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

خالد ابو بکر کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا خیال ہے کہ یہ مشتبہ افراد ان لوگوں کی تحقیقات میں مدد دے سکتے ہیں جو تھائی لینڈ میں بم دھماکے میں ملوث ہیں۔ اس وقت میں مزید تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ ابھی آپریشن جاری ہے۔‘‘

ابو بکر نے کہا کہ پولیس 17 اگست کو بنکاک کے ایراوان مندر پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں تھائی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے جس میں 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے جن میں کئی چینی سیاح بھی شامل تھے۔

جولائی میں تھائی لینڈ نے 100 سے زائد ایغور افراد کو ملک بدر کر دیا تھا۔ تھائی میڈیا اس حملے کو ان کی ملک بدری کے اقدام سے جوڑ رہا ہے۔ ترک زبان بولنے والے ایغور افراد کو زبردستی چین واپس بھیجے جانے کے بعد استنبول میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں تھائی اور چینی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایراوان مندر چینی سیاحوں میں مقبول ہے جس سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ اسے چین کی طرف مبینہ طور پر جبر کے شکار ایغوروں نے نشانہ بنایا۔

تھائی پولیس نے بم میں ملوث تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تحقیقاتی افسروں نے کہا ہے کہ ان میں سے ایک شخص نے بمبار کو ایک بیگ پکڑانے کا دعویٰ کیا ہے جو دھماکا ہونے سے کچھ دیر قبل وہ مندر کے قریب ایک بینچ کے نیچے رکھ کر چلا گیا۔

XS
SM
MD
LG