رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشیا میں 'فیک نیوز' جرم قرار، چھ سال قید کی سزا مقرر


کوالالمپور کے ایک ٹرین اسٹیشن پر موجود اشتہار جس میں لوگوں کو 'فیک نیوز' پھیلانے سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نئے قانون میں جھوٹی خبر کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے ہر ایسی خبر، فیچر، معلومات، ڈیٹا، رپورٹ یا آڈیو اور ویڈیو مواد "جھوٹی خبر" تصور کیا جائے گا جو مکمل طور پر یا جزوی طور پر حقائق کے برخلاف ہو۔

ملائیشیا کی پارلیمان نے جھوٹی خبروں (فیک نیوز) کو جرم قرار دینے کا قانون منظور کرلیا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو چھ سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق کی حکومت کا تجویز کردہ بِل پیر کو پارلیمان نے سادہ اکثریت سے منظور کرلیا۔

بِل کے تحت جعلی خبریں دینے، چھاپنے اورپھیلانے والوں کو پانچ لاکھ رنگٹ (لگ بھگ سوا لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ اور زیادہ سے زیادہ چھ سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

اس سے قبل مجوزہ قانون میں 10 سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی تھی جسے حزبِ اختلاف اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے سخت احتجاج کے بعد واپس لےلیا گیا تھا۔

ملائیشیا کی حزبِ اختلاف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عام انتخابات سے قبل اس طرح کے قانون کی منظوری کو حکومت مخالفین کو ڈرانے اور دھمکانے اور اپنے خلاف کی جانے والی تنقید کو دبانے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ نئے قانون سے ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی متاثر نہیں ہوگی اور قانون کے تحت درج کیے جانے والے تمام مقدمات کا فیصلہ آزادانہ عدالتی عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔

پیر کو مسودۂ قانون کی منظوری کے بعد پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ قانون ازالینا عثمان نے ایوان کو بتایا کہ نئے قانون کا مقصد عوام کو جھوٹی خبروں سے بچانا ہے اور اس سے اظہارِ رائے کی وہ حدود متاثر نہیں ہوں گی جو ملک کے آئین نے متعین کی ہیں۔

نئے قانون میں جھوٹی خبر کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے ہر ایسی خبر، فیچر، معلومات، ڈیٹا، رپورٹ یا آڈیو اور ویڈیو مواد "جھوٹی خبر" تصور کیا جائے گا جو مکمل طور پر یا جزوی طور پر حقائق کے برخلاف ہو۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹس بھی قانون کے دائرۂ کار میں آتی ہیں جب کہ اس کے تحت جان بوجھ کر جھوٹی خبریں پھیلانے والے ایسے غیر ملکیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکے گی جن کے پروپیگنڈے سے ملائیشیا یا ملائیشین شہری متاثر ہوں۔

جھوٹی خبروں یا 'فیک نیوز' کی اصطلاح کو معروف بنانے کا سہرا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاتا ہے جو اپنی انتخابی مہم کے دوران اور صدر بننے کے بعد بھی اپنے خلاف شائع ہونے والی بیشتر خبروں کو 'فیک نیوز' قرار دیتے ہوئے امریکہ کے بیشتر بڑے نشریاتی اور ابلاغی اداروں پر جان بوجھ کر جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

'فیک نیوز' کی یہ اصطلاح دنیا بھر کے ان ممالک میں بھی خاصی مقبول ہورہی ہے جہاں کسی نہ کسی درجے میں آمر حکومتیں موجود ہیں جو اس اصطلاح کی آڑ میں اپنے اپنے ملکوں میں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنیں لگانے اور خود پر کی جانے والی تنقید روکنے کے اقدامات کر رہی ہیں۔

ملائیشیا دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہے جنہوں نے "جھوٹی خبروں" کو غیر قانونی قرار دینے میں پہل کی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ جنوب مشرقی ایشیا کے دو دیگر ملکوں - سنگاپور اور فلپائن - کی حکومتیں بھی 'فیک نیوز' سے نبٹنے کی حکمتِ عملی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG