رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا طیارہ: ربوٹک آبدوز سے تلاش ایک بار پھر ملتوی


امریکی بحریہ کے عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ 600 مربع کلومیٹر کے احاطے پر تلاش مکمل کرنے میں دو ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔

ملائیشیا کے لاپتا طیارے کا ملبہ تلاش کرنے کے لیے سمندر کی تہہ میں بھیجی گئی ربوٹک آبدوز کا مشن ایک بار پھر تکنیکی مسائل کی وجہ سے مختصر کرنا پڑ گیا ہے۔

بدھ کو آسٹریلوی حکام نے بتایا کہ بلیو فن نامی آبدوز کو غیر واضح تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے اسے پھر سطح آب پر واپس بلا لیا گیا۔

ابتدائی مہم میں تعطل کے ایک روز بعد امریکی بحریہ کی ربوٹک آبدوز کو بدھ کو ایک بار پھر بحر ہند میں تلاش کے لیے اتارا گیا تھا۔

بلیوفن نامی اس چھوٹی آبدوز کو پیر کی رات گئے سمندر میں انتہائی گہرائی کے باعث واپس بلا لیا گیا جبکہ اس نے صرف چھ گھنٹے ہی سمندر میں گزارے تھے۔

یہ آبدوز بحر ہند کی تہہ کے اس حصے کی سہ رخی تصویر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی جہاں سمجھا جارہا ہے کہ 239 افراد کو کوالالمپور سے بیجنگ لے جانے والا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا۔

آسٹریلوی حکام نے بدھ کو بتایا کہ ابتدائی مہم سے حاصل ہونے والی معلومات میں کوئی دلچسپ چیز نا ملنے پر آبدوز کو ایک مرتبہ پھر سمندر میں بھیجا گیا تھا۔

امریکی بحریہ کے عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ 6 سو مربع کلومیٹر کے احاطے پر تلاش مکمل کرنے میں دو ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔

بحر ہند میں 14 ہوائی جہازوں اور 13 کشتیوں کی ایک ٹیم بدھ کو بھی بوئنگ 777 کے ملبے اور بلیک بکس کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام کے مطابق یہ کوشش بہت جلد ختم کردی کی جائے گی۔

طیارے کا فلائیٹ ریکارڈ باکس اپنے مقام سے متعلق آگاہی دینے کے لیے سگنلز دیتا ہے تاہم گزشتہ چھ روز میں حکام کے مطابق کوئی سگنلز موصول نہیں ہوئے۔ اس ریکارڈر باکس کی بیٹریاں ایک ماہ تک کارآمد ہوتی ہیں جب کہ طیارے کو لاپتہ ہوئے 38 روز ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG