رسائی کے لنکس

ملائیشیا: ’لاپتہ‘ ہونے والے مسافر طیارے کی تلاش جاری


حکام کے مطابق ہفتہ کی صبح ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سے اُڑان بھرنے کے دو گھنٹوں بعد ہی طیارے سے ہر طرح کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

ملائیشیا کی ایک فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ کوالالمپور سے چین کے دارالحکومت بیجنگ جانے والا ایک مسافر طیارہ لاپتہ ہو گیا ہے، جس کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

جنوبی بحیرہ چین، جہاں اس طیارے سے رابطہ منقطع ہوا تھا وہاں قریبی ممالک بشمول چین کی کشتیاں پہنچ گئی ہیں اور طیارے کے ملبے کی تلاش میں مصروف ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق ویتنام کی بحریہ کے ایک اعلٰی افسر نے کہا کہ یہ طیارہ ’ساؤتھ چائنا سی‘ میں گر کر تباہ ہوا تاہم ملائیشیا کے ٹرانسپورٹ منسٹر نے اس کی تردید کی۔

ملائیشیا کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ نے کہا کہ طیارے کی تلاش کے لیے ہر وہ کوشش کی جا رہی ہے ’’جو ہمارے بس میں ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ ملائیشیا کی فوج کی جانب سے درست معلومات کے انتظار میں ہیں۔ وزیر کے مطابق اُن کی فوج ویتنامی فورسز سے رابطے ہے۔

حکام کے مطابق ہفتہ کی صبح دو بج کر چالیس منٹ پر ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سے اُڑان بھرنے کے دو گھنٹوں بعد ہی طیارے سے ہر طرح کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

بوئنگ بی 777 طیارے پر عملے کے 12 ارکان سمیت 239 افراد سوار ہیں جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

ہفتہ کو ایک نیوز کانفرنس میں ملائیشیا ایئرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد یحییٰ کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ امدادی ٹیموں کے ساتھ مل کر تلاش کی کارروائیوں میں مصروف ہے جب کہ مسافروں اور عملے کے ارکان کے اہل خانہ سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔

احمد یحیٰی کے مطابق جہاز پر 14 ممالک کے شہری سوار تھے جن میں چین کے 152، ملائیشیا کے 38، انڈونیشیا کے 12، آسٹریلیا کے چھ اور امریکہ کے تین شہری شامل ہیں جب کہ دو کم عمر بچوں میں سے ایک امریکی جب کہ ایک چینی شہری ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق طیارے سے رابطہ ویتنام کی فضائی حدود میں منقطع ہوا۔

ژنہوا کے مطابق ملائیشیا کی فضائی کمپنی کا طیارہ چین کے ائیر ٹریفک کنٹرول کی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا۔

بوئنگ 777 سیریز کے جہاز کو ایک حالیہ حادثہ گزشتہ سال جولائی میں پیش آیا تھا۔ ایشیانا ایئرلائنز کا ایک طیارہ سان فرانسسکو کے ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں کم ازکم تین افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ حادثہ مبینہ طور پر پائلٹ کی غلطی سے پیش آیا۔
XS
SM
MD
LG