رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشیا کے بادشاہ سلطان محمد تخت سے دست بردار ہو گئے


ملائشیا کے سبکدوش ہونے والے بادشاہ سلطان محمد پنجم۔ فائل فوٹو

ملائیشیا کے بادشاہ سلطان محمد پنجم نے آج اتوار کے روز باقاعدہ طور پر تخت سے دست بردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

اُنہوں نے یہ اعلان دو ماہ کی تعطیلات بیرون ملک گزار کر وطن واپس لوٹنے کے فوراً بعد کیا ہے جس سے اُن کے مستقبل کے بارے میں کئی ہفتوں سے جاری افواہوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اُن کے بارے میں یہ افواہ گردش کرتی رہی ہے کہ اُنہوں نے روس کی ایک سابقہ ملکہ حسن سے شادی کر لی ہے۔

ملائیشیا کی بادشاہت کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی بادشاہ نے مقررہ مدت پوری ہونے سے قبل سبکدوشی کا اعلان کیا ہو۔ وہ ملائیشیا کے 15 ویں بادشاہ تھے اور اُن کی سب کدوشی آج 6 جنوری سے مؤثر ہو گئی ہے۔

ملائیشیا میں 1957 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے آئینی بادشاہت قائم ہے اور ملائیشیا کی 9 ریاستوں کے حکمران باری باری 5 سال کیلئے ملک کے بادشاہ منتخب ہوتے ہیں۔

شاہی محل سے سلطان محمد پنجم کی سب کدوشی کے بارے میں جاری ہونے والے اعلان میں اس کی وجہ ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم گزشتہ دو ماہ سے اُن کی غیر حاضری کے باعث اُن کی بادشاہت کے بارے میں سوال اُٹھنے لگے تھے۔

سلطان محمد دسمبر 2016 میں ملائیشیا کے بادشاہ منتخب ہوئے تھے اور گزشتہ سال نومبر نے اُنہوں نے علاج کیلئے دو ماہ کی رخصت لی تھی۔

رخصت کے وقت یہ افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ 49 سالہ سلطان محمد نے روس میں سابق روسی ملکہ حسن سے شادی کر لی تھی۔ تاہم شاہی دفتر سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔

اس ہفتے اُن کی طویل غیر حاضری کے دوران ملائشیا کی 9 ریاستوں کے حکمرانوں کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا تھا جس سے سلطان محمد کے مستقبل کے حوالے سے افواہیں مزید شدت اختیار کر گئی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG