رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا مسافر طیارے کا ملبہ خلیج بنگال میں ہوسکتا ہے: رپورٹ


تاہم تلاش کے عمل میں مصروف آسٹریلوی ادارے نے اس رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ تلاش کے مقام کے بارے میں "مطمئین" ہیں۔

زمینی اور سمندری سروے کرنے والی ایک نجی آسٹریلوی کمپنی نے خلیج بنگال میں ایسے مواد کی نشاندہی کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کا تعلق ممکنہ طور پر ملائشیا کے لاپتا ہونے والے طیارے سے ہو سکتا ہے۔

جیو ریزونینس نے جس مقام کی نشاندہی کی ہے وہ آسٹریلیا کے جنوب مغربی ساحل سے پرے تلاش کے موجودہ علاقے سے ہزاروں کلو میٹر دور ہے۔

ملائیشیا کے وزیر دفاع ہشام الدین حسین کا کہنا ہے کہ حکام آسٹریلوی کمپنی کے دعوے کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم آسٹریلوی ادارہ جو کئی اور ملکوں کے ساتھ مل کر تلاش کے عمل میں شامل ہے نے اس رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ تلاش کے مقام کے بارے میں "مطمئین" ہیں۔

تفتیش کاروں نے سیٹیلائیٹ ڈیٹا اور ان سگنل کے ذریعے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ جہاز کے ڈیٹا ریکارڈر کے ہو سکتے ہیں تلاش کے موجودہ مقام کا تعین کیا تھا۔

جیو ریزونینس نے امیجینگ اور تابکار ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سمندر کی تہ میں بوئنگ 777 سے تعلق رکھنے والے ایلومینیئم، ٹائٹینیئم اور جیٹ کے ایندھن کے مواد کی تلاش کی۔

کمپنی کا یہ کہنا ہے کہ وہ یہ نہں کہ رہی کہ جس مواد کی اس نے نشاندہی کہ ہے وہ لاپتا ہونے والے طیارے کا ہے لیکن اس نے کہا کہ وہ یہ چاہتی ہے کہ اس معلومات کی چھان بین ہونی چاہیئے۔

ملائیشیا ایئر لائنز کا طیارہ جس پر 239 لوگ سوار تھے 8 مارچ کو کوالالمپور سے بیجنگ کے لیے پرواز کے ایک گھنٹے بعد ہی لاپتا ہو گیا تھا۔

درجنوں ہوائی جہاز، بحری جہاز، خود کار آبدوز اور جدید آلات کی مدد سے ایک وسیع علاقے میں ہونے والے تلاش کا عمل ابھی تک کارگر ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اب اس کا امکان کم ہے کہ کوئی لاپتا طیارے کا تیرتا ہوا کوئی ملبہ مل جائے اس لیے انہوں نے اپنی توجہ کا مرکز زیر آب ہے۔
XS
SM
MD
LG