رسائی کے لنکس

logo-print

متشدد انتہا پسندی کا انسداد، کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز


مغرب میں اسلامو فوبیا کا حوالہ دیتے ہوئے، پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ ’پرتشدد انتہا پسندی دنیا کو درپیش بڑے چیلجنوں میں سے ایک ہے، جس سے ریاستیں اور معاشرے متاثر ہو رہے ہیں‘

پاکستان نے دنیا بھر میں متشددانہ انتہا پسندی کے خلاف حکمت عملی کی تیاری کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک ایڈہاک کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جمعرات کو فروغ رواداری اور انسداد پرتشدد انتہا پسندی کے موضوع پر جنرل اسمبلی کے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آزادی اظہار اور نفرت کے اظہار میں فرق کو واضح کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کنفیوژن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہا پسند اپنے نظریاتی ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے مغرب میں اسلامو فوبیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرتشدد انتہا پسندی دنیا کو درپیش بڑے چیلجنوں میں سے ایک ہے، جس سے ریاستیں اور معاشرے متاثر ہو رہے ہیں۔ اسے ملکی اور بین الااقوامی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ملیحہ لودھی نے پرتشدد انتہا پسندی کے موضوع پر عالمی ادارے میں مباحثے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ میں تعلیمی منصوبوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی گلوبل انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز پیش کی ہے کہ ایک جامع حکمت عملی کی تیاری کے لئے جنرل اسمبلی ایک ایڈہاک کمیٹی تشکیل دے، تاکہ دنیا کو اس عفریت سے نمٹنے کے لئے حتمی فارمولا مل سکے۔
ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان نے اس حوالے سے ایک حتمی حکمت عملی تیار کی ہے جس پر پوری سچائی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی، انھوں نے کہا کہ پاکستان پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی ہو اور جو بھی اس دہشت گردی میں ملوث ہو سخت مذمت کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG