رسائی کے لنکس

logo-print

مالے: دو صحافیوں کا قتل، القاعدہ نے ذمہ داری قبول کرلی


ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں شمالی مالے میں فرانس اور اُس کے اتحادیوں مالے، افریقی ممالک اور اقوام متحدہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف سرزد ہونے والے ’جرائم‘ کا بدلہ ہیں

موریتانیہ کے ایک اخباری ویب سائٹ کے مطابق، ہمسایہ مالے میں القاعدہ سےتعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے دو فرانسسی صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

’صحارا میڈیا‘ نے بدھ کے روز بتایا کہ اُسے یہ دعویٰ اسلامی مغرب (جو شمالی افریقہ میں القاعدہ کی ایک شاخ ہے) میں القاعدہ کے ایک اعلیٰ علاقائی کمانڈر، عبدالکریم ترقئی کے ایک وفادر جنگجو سے موصول ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں فرانس اور اُس کے اتحادیوں مالے، افریقی ممالک اور اقوام متحدہ کی طرف سے شمالی مالے میں مسلمانوں کے خلاف روا رکھے گئے ’جرائم‘ کا بدلہ ہیں۔

اسلامی شدت پسند ماضی میں اپنے پیغامات صحارا میڈیا کے ذریعے جاری کرتے رہے ہیں۔

اغوا کیے جانے کے بعد فرانسسی ریڈیو کے دو صحافیوں کو ہفتے کے دِن شمالی مالے میں ہلاک کیا گیا۔

مسلح افراد نے ایک مرد اور ایک خاتون صحافی کو اُس وقت اغوا کیا تھا جب وہ شمالی مالے کے کدال نامی قصبے میں ’نیشنل موومنٹ فور لبریشن آف ازاواد‘ سے تعلق رکھنے والے ایک اہل کار کا انٹرویو کرکے واپس آرہے تھے۔ ’ایم این ایل اے‘ ایک علحیدگی پسند گروپ ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ کدال ’ایم این ایل اے‘ کا ایک مضبوط گڑھ ہے، جو شمالی مالے میں طوراق کی آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

گذشتہ سال کے اوائل میں علاقے سے فرانس اور افریقی افواج کو باہر نکال کر شدت پسند اسلامی گروہ نے کدال پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
XS
SM
MD
LG