رسائی کے لنکس

logo-print

اقوام متحدہ کے امن کاروں پر حملے بند کیے جائیں: بان کی مون


سکریٹری جنرل نے مالی کے باغی گروہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گرد حملے بند کیے جائیں، جیسا کہ منگل کے روز دستخط ہونے والے اعلامیہ میں، اِن گروہوں نے عزم کیا ہے

جمعرات کو ہونے والے بم دھماکے میں پانچ امن کاروں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد، اقوام متحدہ کے سربراہ، بان کی مون نے مطالبہ کیا ہے کہ شمالی مالی میں اقوام متحدہ کے امن کاروں پر حملے بند کیے جائیں۔

ایک بیان میں، سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ اگولہوک کے قریب کدال کے علاقے میں ہونے والے سڑک کنارے بم حملے کے واقع پر اُنھیں سخت صدمہ پہنچا ہے۔ اس واقع میں شاڈ کے پانچ امن کار ہلاک جب کہ تین دیگر فوجی زخمی ہوئے۔

اس ماہ کے اوائل میں اُسی علاقے میں ایسے ہی ایک حملے کے نتیجے میں چار امن کار ہلاک ہوچکے ہیں۔

سکریٹری جنرل نے مالی کے باغی گروہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گرد حملے بند کیے جائیں، جیسا کہ منگل کے روز دستخط ہونے والے اعلامیہ میں، اِن گروہوں نے عزم کیا ہے۔

باغی اور حکومتِ مالی الجیریا میں مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایک دیرپہ امن سمجھوتے کا حصول ہے۔

نسلی نفاق کا شکار یہ ملک، جہاں طوراق بغاوت درپیش ہے اور ملک کے شمال کے وسیع ریگزار میں اسلام نواز بغاوت نے سر اٹھا رکھا ہے، 2012ء میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد اب تک مالی استحکام اور امن کی جستجو میں لگا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جولائی، 2013ء جب سے اقوام متحدہ کے مشن نے فرائض سنبھالے، مالی میں اب تک 21 امن کار ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 84 زخمی ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG