رسائی کے لنکس

طلاق کا حق دیا جائے: مالٹا میں ریفرنڈم


طلاق کا حق دیا جائے: مالٹا میں ریفرنڈم

مالٹا کے بعد فلپائن دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جہاں طلاق دینے پر پابندی ہے۔

بحراوقیاس کے ایک چھوٹے سے جزیرے میں ہفتے کے روز اس سوال پر ریفرنڈم ہوا کہ آیاطلاق کو قانونی حیثیت دی جانی چاہیے یا نہیں۔ مالٹا یورپ کا واحد ایساملک ہے جہاں طلاق کی اجازت نہیں ہے۔

تقریباً تین لاکھ ووٹر، جن میں اکثریت رومن کیتھولکس کی ہے، ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ اور وہ اس بارے میں اپنی رائے دیں گے کہ آیا ایسے شادی شدہ جوڑوں کو جو چار سال سے الگ رہ رہے ہوں، طلاق کی اجازت دی جانی چاہیے۔

اگر لوگوں نے ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دیا تو پھر اسے قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ بھیج دیا جائے گا۔

وزیر اعظم لارنس گونزی طلاق کے حق کے مخالف ہیں لیکن ان کی جماعت انتہائی معمولی اکثریت سے اقتدار میں ہے۔

موجودہ صورت حال میں مالٹا کے شادی شدہ جوڑے قانونی طورپر صرف علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں ، مگر انہیں اس وقت تک دوبارہ شادی کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے جب تک کہ ان کی پہلی شادی قانونی طورپر ختم نہ ہوجائے۔

مالٹا کی سیاسی جماعتوں نے خود کو ریفرنڈم کے حق یا مخالفت میں مہم چلانے سے دور رکھا ہے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان کے دوٹر اس مسئلے منقسم ہیں۔

ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان اتوار کو متوقع ہے۔

مالٹا کے بعد فلپائن دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جہاں طلاق دینے پر پابندی ہے۔

XS
SM
MD
LG