رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسند بھائیوں نے نوجوان کی آنکھیں نکال دیں


پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں ایک باپ اور بھائیوں نے ایک نوجوان کی دونوں آنکھیں نکال دیں جو ایک لڑکی سے اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا تھا۔

22 سالہ عبدالباقی کا خیال تھا کہ شاید اس کا خاندان اس کی پسند کی شادی کرنے میں اس کی مدد کرے گا لیکن اس کی سوچ کے برعکس اس کے باپ اور چار بھائیوں نے اس پر اسلامی اقدار کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سزا کے طور پر اس کی دونوں آنکھیں نکال دیں۔

یہ واقعہ 13 مئی کو پیش آیا اور باقی کے بھائیوں اور باپ نے اس کی ماں اور بہنوں کو ایک کمرے میں بند کر دیا اور باقی کو گھر کے کونے میں لے گئے جہاں اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں باندھنے کے بعد اسے ڈنڈوں سے پیٹنا شروع کر دیا۔

عبدالباقی نے وائس آف امریکہ کو بتایا "میرے ایک بھائی نے چائے کے چمچ کے ساتھ میری ایک آنکھ کا ڈھیلا نکال دیا اور جب یہ میرے چہرے پر لٹک رہا تھا تو میرے والد نے چاقو سے کاٹ کر اس لگ کر دیا۔ "

عبدالباقی نے مزید کہا کہ "ان (بھائیوں) سے ایک نے میرے سر پر پاؤں رکھ دیا تاکہ میں حرکت نا کر سکوں اور دوسروں (بھائیوں) نے میری دوسری آنکھ بھی نکال دی۔ "

عبدالباقی بلوچستان کے شہر لورالائی کا مکین ہے۔ اسے یہ توقع نہیں تھی کہ اس کا اپنا خاندان اس پر حملہ کر کے اسے بینائی سے محروم کر دے گا۔ لیکن اس وقت وہ ہر قسم کے نتائج کے لیے تیار تھا۔

عبدالباقی نے کہا "اگر مجھے مار بھی دیا جاتا پھر بھی میں اپنا وعدہ نبھاتا، میں پھر بھی وفا نبھانے کا وعدہ پورا کرتا اور میں اپنی زندگی کی بھیک نا مانگتا۔"

عبدالباقی نے کہا کہ اس کے بھائی بہت قدامت پسند ہیں۔ اس کے بھائیوں نے اسے متنبہ کیا تھا کہ کسی لڑکی سے بات کرنا ایک غیر اسلامی بات ہے اور وہ کافر ہے۔

عبدالباقی نے دعویٰ کیا کہ اس کا ایک بھائی جو صرف 18 سال کا ہے وہ افغانستان میں جہاد سے اس دن واپس آیا جب اس پر حملہ ہوا تھا۔

عبدالباقی نے کہا کہ "وہ پہلی بار افغانستان گیا تھا۔ وہ نعرے بلند کر رہا تھا کہ اللہ کا شکر ہے، اللہ عظیم ہے، جہاد صرف اللہ کے لیے ہے ۔ مجاہدین زندہ باد۔"

عبدالباقی نے مزید کہا کہ اس کے بھائی کا کہنا تھا کہ "ہم افغانستان جہاد کے لیے جا کر غلطی کر رہے ہیں ۔ 'اصل جہادی یہاں ہمارے اپنے گھر میں ہے ۔ سب سے پہلا جہاد اس کافر کے خلاف ہے۔ ' وہ میرے بار ے میں بات کر رہا تھا جب میرے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ "

عبدالباقی نے کہا کہ حملے کے بعد ایک دوست نے اسے اسپتال منتقل کیا اور اسپتال پہنچ کر اس نے پولیس کو آگاہ کیا۔ پولیس نے اس کے باپ کو دو بھائیوں سمیت گرفتار کر لیا جبکہ باقی دو بھائی مفرور ہیں۔

پولیس کو مشتبہ افراد نے بتایا کہ باقی خود کشی کرنے پر مائل تھا اس لیے انہوں نے اسے باندھ دیا۔ باقی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ اس کا خاندان دوبارہ اس پرحملہ کر سکتا ہے۔

جس لڑکی سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا جب اس کے خاندان کو باقی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنی بیٹی کی اس کے ساتھ شادی کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG