رسائی کے لنکس

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حق میں پیدل سفر


کثرت رائے نے اسلام آباد کے لیے پیدل سفر کا آغاز باب خیبر جمرود سے کیا۔

ان دنوں کھرل زادہ کثرت رائے قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جلد انضمام کے لیے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پیدل سفر پر رواں دواں ہیں۔

پنجاب کے وسطی ضلعے حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے کھرل زادہ کثرت رائے مختلف مسائل اور امور پر آواز بلند کرنے کے لیے پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں 16 ہزار سے زائد کلومیٹر کا پیدل سفر کر چکے ہیں۔

ان دنوں وہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جلد انضمام کے لیے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پیدل سفر پر رواں دواں ہیں۔

پیر کو اپنے اس پیدل سفر کے دوران وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ایک شہری ہونے کے ناتے اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے مسائل کے لیے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے اور وہ اپنے انداز میں اس کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

کثرت رائے نے کہا کہ وہ قبائلی علاقوں میں آتے جاتے رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے لوگ محبت کرنے والے اور پاکستان کے خیرخواہ ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی فرنیئٹر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) جیسے "کالے قانون" کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان کے بقول، "بدقسمتی سے یہ لوگ استحصال کی چکی میں پس رپے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ فاٹا کے لوگوں کو ایف سی آر سے آزادی ملے، انھیں پاکستانی قوم جیسا مقام ملے۔۔۔ فاٹا کا جو مثبت تشخص ہے وہ دنیا کے سامنے جائے اور میرے خیال میں فاٹا کے مسائل کا حل اس کا صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام ہے اور اسے جلد ضم کیا جانا چاہیے۔"

دو روز قبل خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں تاریخی بابِ خیبر سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے کثرت رائے پانچ مرحلوں میں اسلام آباد پہنچیں گے۔

"کل ہم نے پشاور میں قیام کیا تھا۔ آج پشاور سے نوشہرہ تک کا سفر ہے۔ پھر کامرہ تک جاؤں گا۔ چوتھے مرحلے میں کامرہ سے واہ اور پھر اگلے دن واہ سے اسلام آباد پہنچوں گا۔"

وہ اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر سیکڑوں میل کی مسافت پر مبنی پیدل سفر کر چکے ہیں۔ 2013ء میں انھوں نے 'واک فار گلوبل پیس' کے عنوان سے ساحلی شہر کراچی سے سعودی عرب کے شہر مکہ تک 6387 کلومیٹر کا پیدل سفر بھی کیا تھا۔

انتالیس سالہ کثرت رائے اپنی ان مہمات میں اکیلے ہی پیدل چلتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ان کے معاونین اور اکثر اوقات مقامی لوگ کچھ دور تک سفر کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، "میں چلتا تو اکیلا ہوں لیکن لوگوں کے جذبے میرے ساتھ چلتے ہیں۔"

نجی زندگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ "اسی حالت میں اگر کوئی (خاتون) قبول کرے گی تو میں اس نعمت غیر مترقبہ سے بھی مسفید ہوں گا لیکن فی الحال میں اکیلا ہوں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG