رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: اخوان المسلمون کے احتجاجی مظاہرے، جھڑپیں


'رائٹرز' کے مطابق ملک میں فوج کے بلواسطہ اقتدار کے خلاف 'اخوان المسلمون' کی جانب سے گزشتہ ڈھائی ماہ میں یہ سب سے بڑا احتجاج ہے۔

مصر کی سابق حکمران جماعت 'اخوان المسلمون' کی اپیل پر جمعے کو ملک بھر میں بڑے مظاہرے کیے جارہے ہیں جن کے شرکا اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اب تک پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق ملک میں فوج کے بلواسطہ اقتدار کے خلاف 'اخوان المسلمون' کی جانب سے گزشتہ ڈھائی ماہ میں یہ سب سے بڑا احتجاج ہے۔

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں احتجاج کا مرکز 'تحریر اسکوائر' ہے جہاں پر جمع ہونے والے اخوان کے ہزاروں حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کرکے مظاہرین کو 'تحریر اسکوائر' سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' کے مطابق فوجی دستے قاہرہ میں اخوان کے حامیوں کو 'تحریر اسکوائر' کی جانب جانے والا پل عبور کرنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔

طبی حکام کے مطابق قاہرہ میں ہونے والے مظاہروں پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک اخوان کا ایک کارکن ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

دیگر چار ہلاکتیں جنوبی شہر اسیوط میں ہوئی ہیں جہاں نکلنے والے جلوسوں کے شرکا اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اخوان کی اپیل پر دارالحکومت قاہرہ کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے جلوس شہر کے جنوب میں واقع 'رابعۃ العدویہ' نامی اس میدان کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں ہونے والے دھرنے کو سکیورٹی فورسز نے 14 اگست کو ایک ہلاکت خیز کاروائی کرکے منتشر کردیا تھا۔

اس کاروائی میں دھرنے میں شریک سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے جو وہاں اخوان سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

قاہرہ میں مظاہرین کا ایک بڑا گروہ صدارتی محل کی جانب بڑھنے کی بھی کوشش کر رہا ہے جسےپولیس کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

مصر کے دوسرے بڑے شہراسکندریہ اور دیگر بڑے شہروں میں بھی ہزاروں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعے کی نماز کے بعد مختلف شہروں میں نکلنے والے جلوسوں کے شرکا فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کی برطرفی اور معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو فوج کی تحویل میں ہیں۔

ان مظاہروں سے قبل جمعے کی صبح نہرِ سوئز کے کنارے واقع شہر اسمعیلیہ کے نزدیک ایک گاڑی میں سوار نقاب پوشوں کی فائرنگ سے دو مصری فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

اسمعیلیہ کا شہر مصر کے صحرائی صوبے سنائی کے ساتھ واقع ہے جس کی سرحدیں اسرائیل اور فلسطینی علاقے غزہ سے ملتی ہیں۔

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف تین جولائی کو ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے سنائی کے علاقے میں فوج اور پولیس کے اہلکاروں پر اسلامی شدت پسندوں کے حملے معمول بن چکے ہیں۔

علاقے میں سرگرم ایک سلفی جہادی گروپ نے جمعے کو دھمکی دی ہے کہ اگر علاقے میں بسنے والے بدو عربوں کے کسی رہنما نے مصری حکام کے ساتھ تعاون کیا تو انہیں بھی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG