رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کے خطاب پر مسلم تجزیہ کاروں اور راہنماوں کا ملا جلا ردعمل


دنیا کے مختلف خطوں کے مسلمانوں کی اکثریت نے سعودی عرب میں اتوار کو درجنوں عرب اور مسلمان ملکوں کے راہنماوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیا تھا۔

اپنی صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر "مکمل پابندی" کا کہتے رہے لیکن اتوار کو انھوں نے امریکہ اور مسلمانوں کے تعلقات کے بارے میں اپنے تصور کا خاکہ پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انسداد دہشت گردی کی لڑائی "اچھائی اور برائی کے درمیان لڑائی ہے۔"

افغانستان، عراق اور اقوام متحدہ کے لیے امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں مشرق وسطیٰ کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک پر توجہ مرکوز رکھی جو کہ ان کے بقول دہشت گردی و انتہا پسندی ہے۔

"ان کی طرف سے انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف مزید کوششیں کرنے کے لیے مسلمان راہنماوں پر زور دینا بہت اہم ہے۔"

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور گرگاش نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام صدر ٹرمپ کو اس خطاب پر سراہتے ہوئے کہا کہ "انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف احترام اور دوستی پر مبنی رویے کے ساتھ ایک موثر اور تاریخی خطاب تھا۔"

مسلم راہنماوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کی اس پہل سے خطے میں انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

جدہ میں روزنامہ 'عرب نیوز' کے مینیجنگ ایڈیٹر سراج وہاب نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے گفتگو کہا کہ مسلمان ملکوں اور امریکہ کے درمیان تعاون انتہا پسندی اور انتہا پسند گروپوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

بفالو یونیورسٹی کے پروفیسر فیضان حق نے بھی وہاب کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ "صدر ٹرمپ نے سیدھی بات کی اور مجموعی طور پر ان کا یہ دورہ مسلم ممالک اور امریکہ کے درمیان تعاون کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔"

واشنگٹن میں افغانستان کے سفیر حمداللہ محب کہتے ہیں کہ اچھائی اور برائی کے درمیان تاریخی لڑائی اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی جب تک دنیا اس پر یکجا ہو کر عمل نہیں کرتی۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے جو عالمی حل کا متقاضی ہے۔

"جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ خطے کے ہر ملک کا ایک فرض ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں دہشت گرد ان کی سرزمین پر آماجگاہیں نہ بنا سکیں اور میں اس میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ خطے کے ہر ملک کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان گروپوں کی معاونت اور مالی امداد کو بھی ختم کرے۔"

اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ "لبنان سے لے کر عراق اور یمن تک ایران دہشت گردوں اور دیگر انتہا پسند گروپوں کو فنڈز، اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہا ہے جو پورے خطے میں تباہی اور افراتفری پھیلاتے ہیں۔"

پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی ایک مرکزی راہنما شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب، ایران کے خلاف ایک ہو گئے ہیں۔

"سعودی عرب کے بادشاہ اور ٹرمپ کی تقریروں کے بعد اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد کی توجہ ایران مخالف ہے۔"

ٹرمپ کے خطاب پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ لگ رہا ہے۔

بعض مسلمان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے خطاب سے مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کی تجدید کا آغاز کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG