رسائی کے لنکس

logo-print

مردان: نادرا کے دفتر پر خودکش حملہ، 23 افراد ہلاک


خودکش حملہ کوائف کا اندارج کرنے والے قومی ادارے ’نادرا‘ کے دفتر کے دروازے کے قریب ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق جس وقت یہ دھماکا ہوا، تو نادرا کے دفتر میں بڑی تعداد میں لوگ وہاں موجود تھے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان میں منگل کو خود کش بم دھماکے میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور لگ بھگ 40 زخمی ہو گئے۔

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیوں کہ جن زخمیوں کو اسپتالوں میں لایا گیا اُن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

خودکش حملہ کوائف کا اندارج کرنے والے قومی ادارے ’نادرا‘ کے دفتر کے دروازے کے قریب ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق جس وقت یہ دھماکا ہوا، تو نادرا کے دفتر میں بڑی تعداد میں لوگ وہاں موجود تھے۔

’نادرا‘ قومی شناختی کارڈ بنانے کا مجاز ادارہ ہے اور عموماً ملک بھر میں اس ادارے کے دفاتر میں شناختی کارڈ بنوانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں لوگ جاتے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق خودکش حملہ آور نے اپنا موٹر سائیکل نادرا کی عمارت کے مرکزی دروازے سے ٹکرایا۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے نا صرف ’نادرا‘ کی عمارت بلکہ اردگرد کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

زخمیوں کو فوری طور پر مردان کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جب کہ بعض شدید زخمیوں کو پشاور کے اسپتال میں بھی منتقل کیا گیا۔

بم دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الحرار نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جماعت الحرار کے ترجمان نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ نادرا کے دفتر کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ یہ ادارہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی جنگ کا حصہ ہے۔

خیبرپختونخواہ کے صوبائی وزیر مشتاق غنی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن بدقسمتی سے منگل کو دہشت گرد یہ حملہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ نےمردان میں نادرا کے دفتر پر خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر رکھا ہے جس میں اب تک حکام کے مطابق 3400 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردوں کے حملوں میں نمایاں کمی آئی لیکن حکام کے مطابق دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG