رسائی کے لنکس

مشال کے قتل کے بعد سے بند یونیورسٹی کھول دی گئی

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

اتوار کو مشال خان کا چالیسواں ان کے آبائی شہر صوابی کے علاقے زیدا میں ہوا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

خیبر پختونخواہ کے شہر مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی ایک ماہ سے زائد عرصے تک بند رہنے کے بعد پیر کو جزوی طور پر تدریسی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھول دی گئی۔

13 اپریل کو توہین مذہب کے الزام میں اس جامعہ کے ایک طالب علم مشال خان کو اسی یونیورسٹی کے مشتعل طلبا نے تشدد اور گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد یونیورسٹی بند کر دی گئی تھی۔

مشال خان کے قتل کا واقعہ یونیورسٹی کے گارڈن کیمپس میں پیش آیا تھا جو تاحال بند ہے جسے 25 مئی کو کھولا جائے گا۔

پیر کو یونیورسٹی کھولے جانے سے قبل پولیس کی بھاری نفری نے تمام ہاسٹلز کی تلاشی اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

مردان کے ضلعی پولیس افسر میاں محمد سعید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یونیورسٹی میں سکیورٹی انتظامات کے لیے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے لیکن ہاسٹلز کی تلاشی کے دوران ملنے والی غیرقانونی اشیا اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہاں انتظامیہ کو مزید سخت اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

"ممنوعہ اشیا تھیں کچھ پسٹل اور مختلف بور کی گولیاں ملیں، منشیات، شراب اور ایسی ہی چیزیں ملی ہیں۔ ہاسٹلز کو کلیئر کر کے انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔"

انتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ سلامتی کے خدشات کے باعث کیا گیا ہے اور اسی ہفتے مکمل طور پر تمام کیمپسز کو کھول دیا جائے گا۔

مشال خان کی مشتعل طلبا کے ہاتھوں ہلاکت کی نہ صرف ملک بھر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مذمت دیکھنے آئی تھی اور محض الزام کی بنیاد پر ہجوم کا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے اس واقعہ کو تشویشناک رجحان قرار دیا گیا۔

اتوار کو مشال خان کا چالیسواں ان کے آبائی شہر صوابی کے علاقے زیدا میں ہوا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر مشال کے والد اقبال جان نے ایک بار پھر اپنے بیٹے کے اصل قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

پولیس مشال خان کی ہلاکت کے واقعے پر متعدد افراد کو گرفتار کر چکی ہے جن میں یونیورسٹی کے طلبا کے علاوہ ایک استاد بھی شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG