رسائی کے لنکس

logo-print

بے نظیر قتل کیس: مارک سیگل ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرائیں گے


وکیل استغاثہ چوہدری اظہر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو ساڑھے سات بجے شام مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا جس کے بعد اس پر جرح ہو گی۔

امریکی شہری مارک سیگل پاکستان کی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں بدھ کو وڈیو لنک کے ذریعے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے جس کے بعد وکیل دفاع اس پر جرح کریں گے۔

اس مقصد کے لیے واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانے کو انسداد دہشتگردی کی عدالت کا احاطہ قرار دیا جائے گا جہاں مارک سیگل بیان دیں گے، جب کہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج محمد ایوب مارتھ راولپنڈی میں وڈیو لنک کے ذریعے ان کا بیان سنیں گے۔

وکیل استغاثہ چوہدری اظہر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو ساڑھے سات بجے شام مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا جس کے بعد اس پر جرح ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کی حد تک یہ بہت اہم بیان ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مارک سیگل کے بیان کے بعد مزید آٹھ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔

مارک سیگل کو بے نظیر بھٹو قتل کیس میں اہم گواہ تصور کیا جاتا ہے۔ جناب سیگل کا دعویٰ ہے کہ 25 ستمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کو ان کی موجودگی میں ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ان کے بقول ٹیلی فون سننے کے بعد بینظیر بھٹو نے انہیں بتایا کہ یہ کال اس وقت کے صدر مشرف کی طرف سے کی گئی تھی جس میں مبینہ طور پر بے نظیر بھٹو کو خبردار کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ان کے تحفظ کا دارومدار ان کے پرویز مشرف سے تعلقات پر ہو گا۔

مارک سیگل کے بقول اسی سال اکتوبر میں بینظیر بھٹو نے انہیں ایک ای میل بھی بھیجی تھی جس میں انہوں نے اپنے عدم تحفظ کے احساس کا اظہار کیا تھا۔

مارک سیگل نے اس سے پہلے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پاکستان آنے سے انکار کیا تھا۔

بینظیر بھٹو 2007 میں آٹھ سالہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئی تھیں۔

راولپنڈی کے معروف مقام لیاقت باغ میں 27 دسمبر 2007 کو ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد جب وہ واپس اسلام آباد روانہ ہوئیں تو ایک بم دھماکے میں اُنھیں ہلاک کر دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پانچ سال تک اُن کی جماعت پیپلز پارٹی پاکستان میں برسراقتدار رہی اور اُن کے شوہر آصف زرداری ملک کے صدر رہے۔

لیکن اس دوران اُن کے قتل کے مقدمے میں کوئی نمایاں پیش رفت نا ہو سکی۔

سابق صدر پرویز مشرف بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے خود پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور جلسے سے خطاب کے بعد جب وہ اپنی گاڑی سے باہر نکلیں تو اُس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنھیں خودکش بمبار نے نشانہ بنایا۔

XS
SM
MD
LG