رسائی کے لنکس

logo-print

مشال کا قتل: سپریم کورٹ نے عدالتی کمیشن کی تشکیل روک دی


Supreme Court of Pakistan

صوبہ خیبر پختونخواہ کے انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین نے عدالت کو بتایا کہ مشال خان کے قتل سے متعلق 80 فیصد تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے توہین مذہب کے الزام میں طالب علم مشال خان کے قتل کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ کو عدالتی کمیشن بنانے سے روک دیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کے معاملے کا از خود نوٹس لے رکھا ہے۔

بدھ کو جب چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس بارے میں سماعت کی تو ان کے سامنے یہ معاملہ بھی آیا کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پشاور ہائی کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ’جوڈیشل کمیشن‘ بنانے کی درخواست کر چکے ہیں۔

جس پر عدالت نے کہا کہ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو صوبائی حکومت نے ’جوڈیشل کمیشن‘ بنانے کی درخواست کیوں کی۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین نے عدالت کو بتایا کہ مشال خان کے قتل سے متعلق 80 فیصد تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور اُن کے بقول جلد ہی چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

سماعت کے دوران عدالت نے انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود سے یہ بھی پوچھا کہ تحقیقاتی ٹیم میں انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔

صوبائی پولیس سربراہ کہہ چکے ہیں کہ مشال خان کے قتل کے بارے میں سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر شائع مواد سے متعلق تفتیش کے لیے اُنھیں ماہرانہ رائے درکار ہے، جس کے لیے اُنھوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ سے مدد طلب کی ہے۔

پولیس کے مطابق مشال خان کے قتل کے مقدمے میں 24 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ مشال خان اور اُن کے دو دیگر ساتھیوں عبداللہ اور زبیر پر جو الزامات لگے اُن کے بارے میں شواہد نہیں ملے ہیں۔

جب کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ مشال خان کے خلاف ’سازش‘ کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG