رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ماسک اور سینیٹائزر مہنگے، پھر بھی برآمد کرنے کی اجازت کیوں؟


پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ بدستور جاری ہے لیکن حکومت پاکستان نے ٹیکسٹائل ماسک اور سینیٹائزر برآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے نوٹی فکیشن بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان مصنوعات کی برآمد کا اعلان مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایک ٹوئٹ میں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کے 'قومی کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' میں کیا گیا۔

مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ این 95 اور دیگر سرجیکل ماسک کی برآمدات پر پابندی اب بھی برقرار ہے۔ صرف ٹیکسٹائل ماسک برآمد کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) پہلے ہی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت کی جانب سے ماسک برآمد کرنے کے فیصلے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

پاکستان میں ماسک اسمگلنگ اسکینڈل

معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریب) پر الزام ہے کہ اُنہوں نے دو کروڑ ماسک اسمگل کیے۔ جس سے مقامی مارکیٹ میں ماسک مہنگے ہو گئے۔

ایف آئی اے نے ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈریپ غضنفر علی کے خلاف اسمگلنگ کی شکایت ملنے پر تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ ایف آئی اے نے پاکستان ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی شکایت پر تحقیقات کا آغاز کیا۔

درخواست گزار کا الزام ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا نے غضنفر علی کی ملی بھگت سے ماسک اسمگل کرائے۔

جس وقت یہ معاملہ سامنے آیا اس وقت چین میں یہ وبا اپنے عروج پر تھی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا تھا کہ چینی سفارت خانے کی درخواست پر یہ ماسک چین بھجوانے کے لیے پانچ کمپنیوں کو اجازت دی گئی تھی۔

پاکستان میں دکانوں سے ہینڈ سینیٹائزر غائب
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:13 0:00

پاکستان میں ماسک اور سینیٹائزر کی پیداوار

پاکستان میں این 95 ماسک بنانے کا کوئی کارخانہ موجود نہیں ہے اور اس وقت صرف ٹیکسٹائل ماسک دستیاب ہیں۔ جو پنجاب اور سندھ میں قائم 32 مختلف فیکٹریوں میں بنائے جارہے ہیں۔

پاکستان ینگ فارماسسٹ ایسویسی ایشن کے جنرل سیکرٹری فرقان نفیس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں ماسک کی ابھی بھی قلت ہے۔ لہذٰا ایسے حالات میں یہ فیصلہ ملک کو مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

اُن کے بقول آئندہ دو سے تین ہفتوں میں پاکستان میں یہ وبا تیزی سے پھیل سکتی ہے اور پاکستان میں اس قدر پیداواری صلاحیت نہیں کہ وہ ماسک کی فراہمی ممکن بنا سکے۔

فرقان نفیس کا کہنا تھا کہ اس وقت صرف ایک فیکٹری پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے سرجیکل ماسک بنا رہی ہے۔ جس میں تین لیئرز ہوتی ہیں، باقی تمام فیکٹریاں ناقص کوالٹی کے ماسک بنا رہی ہیں۔

سینیٹائزر کے حوالے سے فرقان نفیس کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان سینیٹائزر برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ ملک میں سینیٹائزر میں استعمال ہونے والے ایتھانول کی وافر مقدار موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اب تک 55 کمپنیوں کو ٹرانزٹ پرمٹ دیے گئے ہیں۔ جس سے وہ سینیٹائزر برآمد کر سکیں گے۔

پاکستان میں ماسک اور سینیٹائزر کی صورتِ حال

پاکستان میں کرونا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی ماسک اور سینیٹائزرز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ اس کے علاوہ کئی غیر معیاری سینیٹائزر بھی مارکیٹ میں آ گئے۔

ملک بھر میں ماسک کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے اور میڈیکل اسٹورز اور ڈسٹری بیوٹرز نے ماسک کئی گنا زائد قیمتوں پر فروخت کرنا شروع کر دیے۔

اس وقت ملک میں زیادہ تر دستیاب ماسک غیر معیاری اور حفاظتی اُصولوں کے بغیر بنائے اور فروخت کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بعض مقامات پر تو گھروں میں عام کپڑے سے بنے ماسک استعمال کیے جارہے ہیں جو کسی بھی بیکٹیریا یا وائرس کے خلاف موثر نہیں ہیں۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کے مطابق کسٹم حکام اس کی برآمدات کی اجازت نہیں دیتے اور اس سلسلے میں وزارت تجارت ایک وضاحتی نوٹی فکیشن جاری کرے گی۔

مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ این 95 سمیت سرجیکل ماسک کی مقامی مارکیٹ میں کمی ہے اور اس کی برآمدات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG