رسائی کے لنکس

عراق میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر موصل کو داعش سے آزاد کروانے کے لیے برسرپیکار شیعہ جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھیں اس ایک جیل میں اجتماعی قبر ملی ہے جس میں شدت پسندوں نے 2014ء میں سیکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

فورسز کو یہاں سے مرنے والوں کی باقیات برآمد ہوئیں۔

ہفتہ کو اس انکشاف سے تین روز قبل ہی کردش نیوز ایجنسی ردوا نے خبر دی تھی کہ عراقی آرمڈ ڈویژن نے بوداش جیل کا قبضہ حاصل کیا تھا۔ یہ موصل سے شمال مغرب میں دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بتایا تھا کہ داعش نے دس جون 2014ء میں بودواش کی جیل میں اندازاً چھ سو قیدیوں کو قتل کیا اور اس بارے میں کئی ماہ بعد تنظیم نے یہاں سے بچ جانے والوں اور عینی شاہدین سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی رپورٹ جاری کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جس روز داعش نے موصل پر قبضہ کیا تھا اسی دن اس کے جنگجو جیل میں داخل ہوئے۔ عراقی محافظ اس جیل میں موجود قیدیوں کو یہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

عسکریت پسند یہاں سے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ قیدیوں کو ٹرکوں میں ڈال کر دو کلومیٹر دور ایک ویرانے میں لے گئے۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ داعش کے اسلحہ برداروں نے ان قیدیوں میں سے سنی مسلمانوں اور مسیحیوں کو علیحدہ کیا اور انھیں ایک اور مقام پر بھیج دیا۔

یہاں موجود قیدیوں کو بعد ازاں گھٹنوں کے بل بیٹھنے کا کہا گیا اور ان پر نمبر لگا دیے گئے۔ ہر ایک کو اپنا نمبر پکارنے کا کہا گیا جسے ان کے پیچھے کھڑا ہوا شدت پسند گولی مار کر ہلاک کر دیتا۔

بہت سے قیدی موقع پر ہی دم توڑ گئے لیکن بعض زخمی گھسٹتے ہوئے قریبی نالے میں جا گرے اور بچنے میں کامیاب رہے۔ ان ہی لوگوں نے بعد ازاں ہیومن رائٹس واچ کو ان تجربات سے آگاہ کیا۔

XS
SM
MD
LG