رسائی کے لنکس

logo-print

موصل: شدید لڑائی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی


جنوب مشرقی موصل میں داعش کے خلاف عراقی افواج کی نئی کارروائی کے نتیجے میں 14000 سے زائد عراقی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں، جب کہ آئے دِن مزید لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں

ایسے میں جب عراق کے شہر فلوجہ پر دوبارہ قبضے کے حصول کی لڑائی تیز ہو چکی ہے، انسانی ضروریات کا بحران سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، اور یوں شمالی عراق میں ایک نئے بحران کی لپیٹ میں ہے۔

جنوب مشرقی موصل میں داعش کے خلاف عراقی افواج کی نئی کارروائی کے نتیجے میں 14000 سے زائد عراقی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں، جب کہ آئے دِن مزید لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔

جون، 2014ء سے موصل داعش کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق، ایسے میں جب عراقی سلامتی افواج شہر کے قرب پہنچ چکی ہیں، شہر کے جنوب مشرق میں مقیم شہری لڑائی سے بچنے کے لیے رات کی تاریکی میں بارودی سرنگوں کے بیچ راہ نکال کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اربیل میں ادارے کے ’فیلڈ ریسپانس‘ دستے کے سربراہ، فریڈرک کسگ نے کہا ہے کہ کچھ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ چند مہاجرین محفوظ مقام کی جانب جانے کی جستجو کرتے ہوئے بارودی سرنگوں میں پھس گئے ہیں، وہ یا تو شدید زخمی حالت میں ہیں یا پھر ہلاک ہوچکے ہیں۔

ادھر، مہاجرین کے لیے قائم کیے گئے کیمپ رفتہ رفتہ بھرتے جارہے ہیں۔

یواین ایچ سی آر نے متنبہ کیا ہے کہ موصل کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں لوگ بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور ہوں گے، جن کی تعداد 600000 سے زائد ہو سکتی ہے۔

فلوجہ میں موجودہ کارروائی کے نتیجے میں پہلے ہی 43000 افراد بے دخل ہوچکے ہیں، جب کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں نے چوکنہ کیا ہے کہ مہاجرین کی ضروریات سنگین صورت اختیار کر لیں گی۔

XS
SM
MD
LG