رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ میں لاکھوں افراد کا جلوس، چیف ایگزیکٹو کے استعفے کا مطالبہ


فائل فوٹو

ہانگ کانگ میں ہزاروں مظاہرین نے ملزمان کی چین حوالگی کا مجوزہ قانون واپس لیے جانے کے باوجود حکمران کیری لیم کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

خبررساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اتوار کو وسطی ہانگ کانگ میں ہزاروں افراد سیاہ لباس زیب تن کیے سڑکوں پر نکل آئے اور چیف ایگزیکٹو کیری لیم کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔ جلوس میں نوجوان، بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے۔

چین کے نیم خودمختار علاقے ہانگ کانگ کی حکومت نے احتجاج کے پیش نظر ملزمان کی چین حوالگی کے اس متنازع بِل کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا تھا جس کے خلاف ہانگ کانگ میں ایک ہفتے سے پرتشدد مظاہرے جاری تھے۔

مجوزہ قانون کے تحت ہانگ کانگ میں جرائم کے ارتکاب کرنے والے افراد کے مقدمات چین میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم ہانگ کانگ کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس کی مخالفت کی تھی۔

ناقدین کو خدشہ تھا کہ اس مجوزہ قانون کی منظوری سے چین میں کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر عدالتوں سے ملزمان کو انصاف ملنے کی توقع نہیں، جبکہ چین میں زبردستی اعتراف جرم کرنے اور ملزمان پو تشدد کی شکایات بھی عام ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

بدھ کو مظاہرین پر پولیس نے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے تھے جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ہانگ کانگ میں حالیہ مظاہروں کو گزشتہ دہائیوں میں سب سے بڑا احتجاج قرار دیا گیا تھا۔

بعض مظاہرین نے ہاتھ میں سفید پھول اٹھا رکھے تھے جبکہ کچھ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ہم ہانگ کانگ کے شہری ہیں ہم پر تشدد نہ کرو۔

ہانگ کانگ 1841ء میں برطانیہ کی کالونی بنا تھا جس نے چین کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت 1997ء میں علاقے کا کنٹرول دوبارہ چین کو سونپ دیا تھا۔

حالیہ واقعات پر معافی نہ مانگنے پر بھی مظاہرین میں کیری لیم کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG