رسائی کے لنکس

logo-print

'عدلیہ اور ججوں کی ساکھ سوشل میڈیا پیغامات کی مرہونِ منت نہیں'


پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی عمارت (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے بعد انہیں نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

مطیع اللہ جان کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلہ کے بعد کی جانے والی ٹوئیٹ پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک وکیل کی طرف سے دی گئی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی ساکھ کسی شک شبے سے پاک ہے۔

سوشل میڈیا پیغامات پر توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تو درخواستوں کا سیلاب آ جائے گا۔ سوشل میڈیا پر مطیع اللہ جان کے حق اور مخالفت میں ٹوئیٹس دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

سینئر صحافی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ مطیع اللہ جان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے دائر درخواست کا فیصلہ آنے کے بعد ججز کے حوالے سے ایک ٹوئیٹ کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

اسی معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقامی وکیل عدنان احمد نے درخواست دائر کی کہ مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے جس پر عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اور معزز جج صاحبان کی ساکھ سوشل میڈیا پیغامات کی مرہون منت نہیں۔

چیف جسٹس، جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ درخواست گزار وکیل کو ایک نازیبا پیغام پر عدالتی کارروائی کی طرف جانا زیب نہیں دیتا۔ سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کچھ لوگوں نے دیکھی ہو گی۔ عدالتی کارروائی سے دنیا دیکھے گی۔ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی ساکھ کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اس معاملے پر عدالتی کارروائی ججوں کیخلاف پراپیگنڈے کو فروغ دینے جیسا ہو گا۔

ججز پر تنقید کا الزام

مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مختلف ٹرولز کام کر رہے ہیں جو یہ تاثر دیتے ہیں کہ کوئی بھی فرد اس طرح، اس بارے میں مختلف ادارے اپنا کام کر رہے ہیں، اس سے قدرتی بحث نہیں ہو رہی بلکہ مصنوعی طور پر اثرانداز ہوا جا رہا ہے۔

اس بارے میں مطیع اللہ جان نے کہا کہ میں نے وہ ٹوئیٹ مخصوص حالات میں کی تھی۔ اس ٹوئیٹ کا مقصد کسی کی دل آزاری اور تکلیف دینا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ٹوئیٹ کی جاتی ہے تو اس پر قائم رہا جاتا ہے۔ میں کوئی ڈی جی آئی ایس پی آر نہیں کہ اپنی ٹوئیٹ واپس لے لوں۔ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ اس میں توہین کا پہلو ہے تو قانون کے مطابق اس کی تشریح کر دی جائے۔ اس کو صرف اس انداز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ کسی ایک فرد کی رائے ہے۔

مطیع اللہ جان کو نوٹس جاری ہونے پر صحافی عفت رضوی نے کہا ہے کہ اس معاملے پر صحافیوں اور وکلا کو ساتھ آنا چاہیے۔ ایک کیس کا فیصلہ آنے کے بعد انہوں نے ٹوئیٹ کی اور دنیا بھر میں اس فیصلے پر ٹوئیٹس کی گئیں۔ اب اگر انصاف کرنا ہے تو پھر سب کو بلایا جانا چاہیے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کیس سوشل میڈیا پر

سوشل میڈیا پر فائز عیسیٰ کیس کے آغاز سے اب تک لڑائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دونوں جانب سے مختلف ٹرینڈز بنتے ہیں اور ایک دوسرے کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

عفت رضوی نے کہا کہ فائز عیسیٰ کیس صرف ایک جج کے ٹیکس کا معاملہ نہیں بلکہ عدلیہ کو متنازعہ بنانے کا معاملہ ہے۔ پہلے دن سے جب ریفرنس دائر بھی نہیں ہوا تو خبریں سامنے آگئیں کہ ریفرنس آرہا ہے۔ اب جج کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا اور عدلیہ کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرولز بن رہے ہیں اور اس میں بعض مقتدر اداروں کے لوگوں کے باقاعدہ طور پر اکاؤنٹس کے ذریعے جج فائز عیسیٰ کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ مہم صرف ایک جج کے خلاف نہیں بلکہ پوری عدلیہ کے خلاف ہے، اور وہ سب ادارے اس مہم میں کامیاب رہے ہیں۔

اس کیس میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بن رہے ہیں اور 'وی سٹینڈ ود مطیع اللہ' کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

وکلا کیا کہتے ہیں؟

مطیع اللہ جان کے کیس کے بارے میں پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین عابد ساقی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ہماری سوچ یہ ہے کہ ججز کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مطیع اللہ جان کی ٹوئیٹ ایک شخص کا ذاتی خیال ہے اور اس کو عدلیہ کو اپنی توہین کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس کیس میں سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے صدر کے ساتھ عدالت میں پیش ہونگے اور ہماری کوشش ہے کہ معاملات خراب ہونے کے بجائے درگزر سے اور تحمل سے کام لیا جائے۔

پاکستان کے کئی صحافیوں نے مطیع اللہ جان کی حمایت کی ہے اور گذشتہ روز اس کیس کی سماعت پر ان کے ساتھ عدالت بھی گئے۔ پاکستان میں توہین عدالت پر کئی افراد کو سزائیں بھی دی جا چکی ہیں اور توہین عدالت کے الزام پر ایک وزیراعظم کو گھر بھی جانا پڑا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG