رسائی کے لنکس

logo-print

میڈیا میں مالی بحران کے ذمے داروں کو سب جانتے ہیں، مطیع اللہ جان


Matiullah Jan
please wait
Embed

No media source currently available

0:00 0:02:56 0:00

مطیع اللہ جان ان صحافیوں میں شامل ہیں جو کسی حکومت اور ریاستی ادارے کو پسند نہیں آتے۔ وہ سچ کی کڑوی گولی کو شیرے میں ڈبو کر پیش نہیں کرتے۔ وہ اپنے ٹی وی پروگرام اور کالم میں صورتحال کو جوں کا توں پیش کرتے ہیں اور یہ بات کسے پسند آسکتی ہے؟ مطیع اللہ جان ربع صدی سے صحافت کے خارزار میں ہیں۔ چھ سال سے نوائے وقت میڈیا گروپ سے منسلک تھے۔ اخبار کے لیے کالم لکھتے تھے اور ٹی وی کے لیے پروگرام ’اپنا اپنا گریبان‘ پیش کرتے تھے۔ لیکن بدھ کی شام میں نے انھیں فون کیا تو ان کے پاس ایک بری خبر تھی۔

میں نے فون ملایا اور پوچھا کہ پاکستان میں میڈیا کی صورتحال کے بارے میں کچھ کہیے۔

مطیع اللہ جان نے کہا، آپ جس وقت مجھ سے بات کر رہے ہیں، کچھ دیر پہلے مجھے اپنے ادارے کی جانب سے برخواستگی کا پروانہ دیا گیا ہے۔ چھ سال کی رفاقت آج ختم ہوگئی۔ اس صورتحال میں میڈیا کے بارے میں کیا رائے قائم کروں۔

سنسرشپ کو عام طور پر میڈیا اداروں کی پالیسی کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بار سنسرشپ کسی پالیسی کی تبدیلی کے لیے نہیں ہے۔ میڈیا کے پرانے ادارے ڈان، جنگ اور نوائے وقت کا باقاعدہ طور پر گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ ان کے لیے مالی مشکلات کھڑی کی گئی ہیں۔ جو ادارے اسے بنیاد بنا کر صحافیوں کو ملازمت سے نکال رہے ہیں، وہ غلط نہیں ہیں۔ لیکن، اس مالی بحران کے پیچھے کون ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے، یہ بھی سب جانتے ہیں۔

اب حکومت کو تھوڑا سا احساس ہوا ہے۔ آج کی خبر ہے کہ میڈیا مالکان سے فوج کے ترجمان کی ملاقات ہوئی اور دوسرے متعلقہ اداروں سے بھی۔ وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ میڈیا کے واجبات ادا کر دیے جائیں گے۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن اس مالی بحران کے پیچھے جو وجہ ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ سب معاملات عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے سے جاری تھے اور وہی تسلسل برقرار ہے۔

میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے کوئی کالم ایسا لکھا یا پروگرام ایسا کردیا جس سے لوگ ناراض ہوگئے؟

مطیع اللہ جان نے کہا کہ یہ کسی ایک پروگرام کی بات نہیں ہے۔ کافی عرصے سے فوج کے ترجمان کی طرف سے اور کمرشل اداروں کی طرف سے بھی ایسے اشارے مل رہے تھے کہ لوگ مجھ سے خوش نہیں ہیں۔ افواج پاکستان کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں میری اور کئی دوسرے صحافیوں کی تصویریں دکھا کر کہا کہ یہ لوگ فوج مخالف اور ریاست دشمن عناصر ہیں۔ اس کے بعد ’نیکٹا‘ کی طرف سے ’تھریٹ لیٹر‘ جاری کیا گیا جس میں مجھ سمیت کئی صحافیوں کے نام شامل تھے۔ اس میں کہا گیا کہ ہماری جان کو خطرہ ہے اور دہشت گرد نشانہ بنا سکتے ہیں۔

جب اس طرح کی خبریں آپ کے اور ادارے کے بارے میں پھیلائی جائیں تو اثر تو پڑتا ہے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت میڈیا کے نظریاتی اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پھر نئے چینلوں کو جگہ دی جارہی ہے۔ محدود مارکیٹ میں نئے نئے چینلوں کو جگہ دی جائے تو بزنس متاثر ہوتا ہے۔ اشتہارات بھی روک دیے گئے۔ سپریم کورٹ نے بھی بہت سے ایڈورٹائزرز کی گرفتاری کے احکامات دیے اور ان کے مقدمات نہیں نمٹائے۔ ان سے جو تھوڑے بہت اشتہارات ملتے تھے، وہ سلسلہ بھی بند ہوگیا۔ اس طرح سے مختلف حربوں سے میڈیا کی صنعت کو مالی بحران کا شکار کردیا گیا۔

میں نے سوال کیا کہ حکومت نے اشتہارات کے واجبات ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کیا اس کے بدلے میں ناپسندیدہ صحافیوں کو فارغ کرنے کی شرط تو نہیں لگائی گئی؟

مطیع اللہ جان نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے۔ اسے اتفاق کہہ لیں کہ آج ہی عمران خان کا بیان چھپا ہے اور آج ہی مجھے پروانہ تھما دیا گیا۔ بہت سے صحافیوں کی سوشل میڈیا پر موجودگی کو محدود کیا گیا ہے۔ میرے ادارے نے کبھی اس سلسلے میں دباؤ نہیں ڈالا تھا۔ لیکن جو کچھ بھی ہوا، وہ اچانک ہوا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ میڈیا کے خلاف اس مہم کا حصہ ہے جو عام انتخابات سے پہلے شروع کردی گئی تھی۔ اب عمران خان مجبور ہیں کہ اسے لے کر آگے چلیں۔ یہ مسئلہ ایک کمزور سیاسی حکومت کا نہیں، براہ راست طاقتور ریاستی اداروں کا ہے۔ ملک کو جس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس میں میڈیا کے لیے شاید گنجائش اور بھی کم ہوگی۔ مستقبل میں سعودی ماڈل اور چینی ماڈل کو دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ آنے والا وقت میڈیا کے لیے خوشگوار نہیں ہوگا۔

کیا آپ کے ادارے نے کبھی آپ کو آگاہ کیا تھا کہ آپ کی وجہ سے اسے دباؤ جھیلنا پڑتا ہے؟ کیا آپ کو آج کے فیصلے کی وجہ معلوم ہے؟

مطیع اللہ جان نے کہا کہ کچھ وجوہات کا آپ کو پہلے سے علم ہوتا ہے۔ کچھ باتیں اشاروں میں ہوتی بھی رہی ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ کبھی کسی نے مجھ تک بات نہیں پہنچائی۔ لیکن اتنے تسلسل سے یہ چیزیں نہیں تھیں۔ اب دیکھیں، جیسے مجھ پر حملہ ہوا تھا۔ آج تک اس کی تحقیقات کا کچھ پتا نہیں۔ حامد میر کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی تھی اور انھوں نے رپورٹ تیار کی تھی۔ لیکن آج تک ہماری یونین اسے منظرعام پر نہیں لاسکی۔ اس کے بعد آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور پھر ’نیکٹا‘ کا ’تھریٹ لیٹر‘۔ ظاہر ہے کہ یہ سب چیزیں ادارے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ بزنس کے نقطہ نظر سے میری وجہ سے ادارے پر دباؤ تھا اور ایک بار کسی سطح پر مجھے مطلع کیا گیا تھا۔

میں نے دریافت کیا کہ اب آپ کیا کریں گے؟ ان حالات میں نئی ملازمت کے لیے کیا آپ اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں گے؟

مطیع اللہ جان نے کہا کہ پیشہ ور صحافی کی سوچ اور نظریات کا اس قسم کے واقعات سے بدلنا ناممکن ہوتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ اپنے سانس کی رفتار بدل دو یا سانس لینا بند کردو تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اپنی بات کہنا کسی بھی صحافی کے لیے سانس لینے جیسا ہوتا ہے۔

میں اب کیا کروں گا۔ یہ بہت مشکل سوال ہے۔ میں چند ہفتوں بعد پچاس سال کا ہونے والا ہوں۔ آدھی زندگی میں نے صحافت میں گزاری ہے۔ پہلی بار مجھے ایسی صورتحال پیش آئی ہے۔ لیکن یہ قطعی ناممکن ہے کہ میں اپنے نظریات بدل لوں۔ میں وہی کروں گا جو ایک صحافی کو کرنا چاہیے، چاہے کسی ادارے سے منسلک ہو یا نہیں۔

میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ جس قسم کی سپورٹ مجھے صحافی دوستوں اور سوشل میڈیا پر عام لوگوں کی طرف سے مل رہی ہے، اس سے بہت حوصلہ حاصل ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی عام لوگ ایسے ہیں جو حق اور سچ کی آواز کا ساتھ دیتے ہیں اور میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت میڈیا پر دباؤ ڈالنے سے انکار کرتی ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے چار جون 2018 کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاک فوج نے کبھی کسی میڈیا گروپ کو ڈکٹیشن نہیں دی اور نہ کسی صحافی کو فوج کی مرضی کے مطابق خبر لکھنے کے لیے کہا ہے۔

نوٹ: وائس آف امریکا اردو نے پاکستان میں پریس فریڈم کی صورتحال کے بارے میں انٹرویوز کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس میں صحافیوں، میڈیا اداروں کے مالکان اور میڈیا کے بارے میں سرکاری پالیسی سے متعلق عہدیداروں سے گفتگو شامل کی جاتی رہے گی۔ اوپر دیا گیا انٹرویو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے.

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG