رسائی کے لنکس

'امریکی دفاعی پالیسی کی توجہ کا مرکز اب دہشت گردی نہیں'


امریکی وزیردفاع جم میٹس

امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی قومی دفاعی حکمت عملی کی توجہ دہشت گردی کی بجائے ان کے بقول "طاقت کے عظیم مقابلے" کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے یہ بات پینٹاگون کی "قومی دفاعی حکمت عملی" کا اعلان کرتے ہوئے کہی۔ یہ پالیسی عسکری حوالوں سے آنے والے سالوں میں امریکہ کے خدوخال مرتب کرنے میں مدد دیتی ہے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے عندیہ دیا کہ امریکی محکمہ دفاع اپنی توجہ دہشت گردی سے ہٹا رہا ہے جو ان کے بقول 17 سالوں سے امریکی منصوبہ سازوں کو مصروف رکھے ہوئے تھی۔

"ہم دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپنی مہم جاری رکھیں گے لیکن اب امریکی قومی سلامتی کی بنیادی توجہ طاقت کے عظیم مقابلے پر ہوگی نہ کہ دہشت گردی پر۔"

جم میٹس نے چین اور روس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں دنیا کو "طاقت کے محور کے مطابق" قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ "روس نے اپنی قریبی ریاستوں کی سرحدوں کی خلاف ورزیاں کی اور اپنے ہمسایوں کی اقتصادی، سفارتی اور سلامتی کے امور پر اقوام متحدہ میں اپنے ویٹّو کی طاقت کا سہارا لیا۔"

چین کے بارے میں انھوں نے کہا کہ "چین اقتصادیات کو استعمال کرتے ہوئے اسٹریٹیجک مسابقت اختیار کے ذریعے اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ ہے جب کہ بحیرہ جنوبی چین میں عسکری موجودگی کو بڑھا رہا ہے۔"

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "تصادم" کی پالیسی قرار دیا اور کہا کہ امریکی فوجی حکام کی طرف سے اپنے بڑے فاعی اخراجات کو تحفظ دینے کی کوشش ہے۔

روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'تاس' کے مطابق لاوروف نے کہا کہ "ہمیں افسوس ہے بین الاقوامی قانون کو استعمال میں لاتے ہوئے مذاکرات کی بجائے امریکہ اپنی قیادت کو تصادم کی حکمت عملی سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔"

پینٹاگون نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں ایران اور شمالی کوریا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پیانگ یانگ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی میزائل دفاع نظاموں کی ضرورت ہے۔

اس کے مطابق ایران "مسلسل تشدد کے بیج بوتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے بدستور ایک بڑا خطرہ ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG