رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور بھارت کو تعلقات بہتر بنانے پر زور دینا چاہیئے: میک کین


وائس آف امریکہ سے گفتگو میں، سینیٹر جان میک کین کا کہنا تھا کہ، ’نریندرا مودی ایک اعلیٰ کردار کے حامل شخص ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھارت کے لیے بہت سے اہم اور سود مند فیصلے کریں گے اور بھارت امریکہ رشتوں کو مزید تقویت دیں گے‘

ریاست ایریزونا سے منتخب سینیٹر جان میک کین جو ایک طویل عرصے سے امریکی سیاست میں سرکردہ کردار ادا کرتے رہے ہیں اور 2008ء میں مسٹر اوباما کے مد ِمقابل ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار تھے، حال ہی میں جنوبی ایشیاء کے اہم ملک بھارت کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔

بھارت کے اس دورے میں سینیٹر میک کین نے بھارت کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جن میں بی جے پی کے نو منتخب وزیر ِاعظم نریندرا مودی کے ساتھ ملاقات بھی شامل ہے۔

وزیر ِاعظم مودی سے ملاقات میں، سینیٹر میک کین نے امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات کی اہمیت سے متعلق بات کی اور اس حوالے سے بھی گفتگو کی کہ کس طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن کے معروف تھنک ٹینک، ’کارنیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس‘ میں اسی پس منظر کے حوالے سے سیینیٹر میک کین کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد سینیٹر میک کین سے ان کے دورہ ِبھارت کے حوالے سے گفتگو کرنا تھا۔

اپنے کلمات میں، سینیٹر جان میک کین نے کہا کہ، ’امریکہ بھارت کو ایک اہم اتحادی سمجھتا ہے۔ گو کہ ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، مگر امریکہ اور بھارت کو انہیں بھلا کر تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے‘۔

سینیٹر میک کین کا مزید کہنا تھا کہ، ’گو کہ یہاں واشنگٹن میں یہ تاثر بھی رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اس نہج تک نہیں پہنچ سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ تجارتی مسائل سے لے کر سول نیوکلئیر معاہدے میں بھی کئی تناؤ اور پریشانیاں دیکھنے میں آئیں۔ اب جبکہ بھارت میں سیاسی قیادت تبدیل ہو گئی ہے اور نریندرا مودی وزیر ِاعظم منتخب ہوگئے ہیں، ہم اس تبدیلی کو ایک مناسب موقع کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں‘۔

نشست برخاست ہونے کے بعد، وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سینیٹر جان میک کین کا کہنا تھا کہ، ’نریندرا مودی ایک اعلیٰ کردار کی حامل شخص ہیں اور انہیں پارلیمان کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ وہ رفتہ رفتہ اپنے لیے چیزوں کا تعین کر رہے ہیں، مگر مجھے یقین ہے کہ وہ بھارت کے لیے بہت سے اہم اور فائدہ مند فیصلے کریں گے اور بھارت اور امریکہ کے رشتوں کو مزید تقویت دیں گے‘۔

XS
SM
MD
LG