رسائی کے لنکس

logo-print

کیا مرد ذہین عورت کو جیون ساتھی کے روپ میں پسند کرتا ہے؟


نتائج سے یہ وضاحت ہوتی ہے کہ بہت سے مرد ذہین عورت کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنے کےحوالے سے پرجوش نہیں ہوتے ہیں اور ایسا ان کے چہروں پر لکھا ہوتا ہے۔

اگرچہ ایک ہوشیار عورت کی سوچ ایک مرد کو متاثر کرسکتی ہے لیکن حقیقی دنیا میں مرد کے سامنےکھڑی ہوئی ذہین عورت، مرد کو جیون ساتھی کے روپ میں متاثر کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ یہ نتیجہ ایک حالیہ مطالعے کا ہے۔

محققین کو پتا چلا ہے کہ مرد عورتوں میں ذہانت کی خوبی پسند کرتے ہیں لیکن مردوں کو خود سے زیادہ ہوشیار عورت کو جیون ساتھی بنانےکا خیال خوفزدہ کر دیتا ہے۔

امریکی یونیورسٹی بفلو،کیلی فورنیا یونیورسٹی اور ٹیکساس یونیورسٹی کے ایک مشترکہ مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مرد اہلیت اور مسابقت جیسی خصوصیات کو اپنے لیے بہت اہم سمجھتے ہیں اور شاید اسی لیے عورت کی ذہانت مرد کے لیے خطرہ ہوسکتی ہے۔

جریدہ 'پرسنیلٹی اینڈ سوشل سائنس' کی اشاعت کے مطابق محققین نے کہا کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ ان کے نتائج کو رائے قائم کرنے کے کتنا قابل سمجھا جاسکتا ہے لیکن یہاں ایک بات تعجب انگیز تھی۔

حتیٰ کہ اگر ایک مرد جو کہتا ہے کہ وہ ایک ذہین عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، کیا وہ اصل میں اس عورت کی طرف متوجہ ہوا تھا جب وہ اس کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔

ماہرین نے اس مطالعے میں اسی سوال کو کھنگالنے کی کوشش کی ہے۔

ایک ابتدائی سروے میں 86 فیصد مردوں نے بتایا کہ انھیں خود سے زیادہ ذہین عورت کے ساتھ ایک رومانوی ملاقات کر کے خوشی ہو گی۔ بعد میں چھ تجربات کے ایک سلسلے میں تحقیق کاروں نے ان کے دعوؤں کی جانچ پڑتال کی ہے۔

مطالعے کے پہلے حصے میں محققین نے 105 انڈر گریجویٹ مردوں کو ایک فرضی منظر نامہ پڑھ کر سنایا جس میں ایک فرضی عورت نے ٹیسٹ میں ان سے زیادہ نمبر حاصل کئے تھے اور پھر شرکاء سے پوچھا گیا کہ ان کے لیے یہ خواتین جیون ساتھی کے روپ میں کتنی پسندیدہ ہوسکتی ہیں۔

دوسرے مرحلے میں 151 انڈر گریجویٹ مردوں سے انگریزی اور ریاضی کی ذہانت کا ایک ٹیسٹ لیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیچے ہال میں بیٹھی ایک ایسی خاتون سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جس نے ذہانت کے ٹیسٹ میں ان سے زیادہ اسکور حاصل کیا ہے۔

دونوں جائزوں کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ جب انھوں نے ایک فرضی ذہین خاتون کا تصور کیا تھا یا پھر ایک ایسی عورت کے ساتھ رومانوی ملاقات کے لیے سوچا تھا جو وہاں غیر حاضر تھی تو انھوں نے اس عورت کے ساتھ ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔

مطالعے کے اگلے دو ورژن میں شرکاء کی ملاقات ان خواتین سے کرائی گئی جنھوں نے ذہانت کے ٹیسٹ میں ان سے زیادہ یا کم نمبر لیے تھے۔

جس کے بعد شرکاء سے ایک سروے میں پوچھا گیا کہ انھوں نے پہلی ملاقات میں ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے قائم کی تھی۔

اس مشاہدے میں محققین نے شرکاء کی کرسیوں کے فاصلے سے اندازا لگایا کہ مرد کی جانب سے ذہین عورت کو جیون ساتھی کے روپ میں کتنا پسند کیا گیا تھا۔

جو مرد زیادہ نمبر لینے والی خواتین کے ساتھ بیٹھے تھے انھوں نے اس خاتون کے ساتھ اپنی کرسی کا فاصلہ زیادہ کرلیا تھا اور خود کو ان سے دور کرنے کی کوشش کی تھی۔

علاوہ ازیں خاتون کو کم پرکشش اور جیون ساتھی کی حیثیت سے نامناسب خیال کیا تھا ان خواتین کے مقابلے میں جنھوں نے ٹیسٹ میں کم نمبر حاصل کئے تھے۔

مطالعے کے آخری دو مراحل سے پتا چلا کہ مرد ایک ذہین خاتون کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کے ساتھ رابطے رکھنے میں کم دلچسپی دکھا رہے تھے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ مردوں میں ایک ایسی فرضی ذہین عورت کے ساتھ ملاقات کا معمولی رجحان تھا جو قیاساً ہوشیار تھی۔

محققین نے کہا کہ ان نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اکثر مرد ذہین عورت کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں لیکن نتائج سے یہ وضاحت ہوتی ہے کہ بہت سے مرد ذہین عورت کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنے کےحوالے سے پرجوش نہیں ہوتے ہیں اور ایسا ان کے چہروں پر لکھا ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG