رسائی کے لنکس

logo-print

خلیجی ریاستوں میں پیٹرول کے لئے بھیک مانگنے کارجحان


اچانک کوئی شاندار سی لگژری کار رکتی ہے اور اس کا ڈرائیور اپنی منزل ، اپنے ملک واپس پہنچنے کے لئے مدد کے طور پر پیٹرول خریدنے کے لئے پیسے مانگتا ہے۔

دبئی میں رہنے والوں کو آج کل ایک عجیب وغریب صورتحال کا سامنا ہے۔ کسی پوش شاپنگ مال کے پارکنگ ایریا میں یا راہ چلتے اچانک کوئی شاندار سی لگژری کار رکتی ہے اور اس کا ڈرائیور اپنی منزل ، اپنے ملک واپس پہنچنے کے لئے مدد کے طور پر پیٹرول خریدنے کے لئے پیسے مانگتا ہے۔
مزید آسان الفاظ میں کہئے تو وہ پیٹرول بھروانے کے لئے آپ سے بھیک مانگتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
دبئی کے موخر اخبار’گلف نیوز‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق چھ ملکوں یواے ای، سعودی عرب کویت ،قطر،بحرین اور عمان پر مشتمل خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی)میں رجسٹرڈ لگژری گاڑیوں کے سوار دبئی کی سڑکوں پر لوگوں سے اکثر پیڑول کے لئے پیسے مانگتے نظر آنے لگے ہیں۔
مہنگے شاپنگ مالز اور انٹرنیشنل برانڈز کی آوٴٹ لیٹس سے متصل سڑکوں پر اس قسم کے واقعات عام ہوتے جارہے ہیں۔ بینٹلے ، کرائزلر 300اور فورڈ ایکسپلورر جیسی انتہائی مہنگی گاڑیوں میں سوار افرادجس سے بھی پیسوں کا تقاضا کرتے ہیں ۔۔بہانہ ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ دبئی میں مختصر قیام کی وجہ سے تمام پیسے ختم ہوگئے، اب گھر واپسی کے لئے پیٹرول کے پیسے نہیں ہیں کچھ مدد کیجئے۔
مقامی ہوٹل میں کام کرنے والے رحمن نے اپنے مشاہدے کے مطابق کہا کہ انہیں بہت حیرت ہوئی جب سبز رنگ کی بینٹلے کار میں موجود شخص نے ان سے پیٹرول کے پیسے مانگے تا کہ وہ سعودی عرب واپس جا سکے۔
رحمن کا کہنا تھا کہ وہ ایک شخص کوپہلے بھی دو مرتبہ یہ ”کام “کرتادیکھ چکے تھے۔ ان کے کولیگز کو بھی سعودی عرب میں رجسٹرڈ لگژری کار سواروں کی جانب سے ایسی ہی سیچوئیشن کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک بھارتی خاتون کا مشاہدہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں تھا۔ 27سالہ آنندیتا منکوڈی نے بتایا کہ جوں ہی انہوں نے گاڑی پارک کی، برابر میں کھڑی فورڈ ایکسپلورر سے ایک شخص باہر نکلا اور اس نے سعودی عرب واپسی کے لئے پیٹرول کے پیسے مانگے۔ آنندیتا کے مطابق انہوں نے پیسے نہیں دئیے کیونکہ وہ عمان میں ایسے ہی ایک آدمی کو پیسے دے کر بعد میں اس کی اصلیت جان چکی تھیں۔
لگژری کار سواروں کی جانب سے پیسے مانگنے کے زیادہ تر واقعات شیخ زید روڈ پر پیش آرہے ہیں۔ ایک اور ہوٹل میں کام کرنے والے ورکرنے بتایا کہ اس نے یہ تو نہیں دیکھا کہ گاڑی کا میک کیا تھا لیکن لگژری کار سوار کو 70درہم دئیے۔ ورکر کا کہنا تھا کہ مجھے پتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے لیکن پھر بھی میں نے پیسے دے دئیے۔
دبئی پولیس کے سینئر افسر نے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے لوگوں کو پیسے دینے کے بجائے پولیس میں رپورٹ کریں کیونکہ یہ بھیک مانگنا ہے جو غیر قانونی ہے۔
بر دبئی پولیس اسٹیشن کے ڈائریکٹر کرنل علی احمد غنیم نے گلف نیوز سے بات چیت میں کہا”اگر کوئی واقعی ضرورت مند ہے تو اس کی مدد کے لئے باقاعدہ نظام موجود ہے۔ سڑکوں پر لوگوں سے پیسے مانگنا دراصل بھیک مانگنا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ بھیک مانگنے والا لگژری کار میں سوار ہے یا پیدل ہے۔“
کرنل علی نے مزید کہا کہ رمضان میں پیشہ ور بھکاری اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی فیاضی کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دبئی پولیس جلد ہی ’فائٹ بیگنگ ‘ مہم کا آغاز کرنے والی ہے۔ لوگ پولیس سے تعاون کریں ۔اگر کوئی شخص بھیک مانگتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کو ڈی پورٹ کردیا جائے گا اور اس کے متحدہ عرب امارات میں داخلے پر تاحیات پابندی لگا دی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG