رسائی کے لنکس

مرکل کی جماعت کو علاقائی انتخاب میں سخت مقابلے کا سامنا


جرمن چانسلر (فائل فوٹو)

اس انتخاب پر اس لئے بھی گہری نظر رکھی جارہی ہے کیونکہ دائیں بازو کے سوشل ڈیموکریٹس کے طرف سے مرکل کے حریف کے طور پر جنوری میں نامزد ہونے والے مارٹن شلز کا بھی یہ پہلا سیاسی امتحان ہے۔

جرمنی کی مغربی علاقے میں اتوار کو ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ستمبر میں ہونے والے ملک گیر انتخاب سے چھ ماہ پہلے ہونے والے ان انتخابات میں چانسلر اینگلا مرکل کی جماعت کے قدامت پسند راہنماوں کو ملک میں دائیں بازو کے ابھرتے ہوئے حریفوں کی طرف سے ایک سخت سیاسی امتحان درپیش ہے۔

مرکل جرمنی کے چوتھی بار چانسلر بننے کی متمنی ہیں۔

فرانس کی سرحد پر واقع سارلینڈ کی آبادی 10 لاکھ سے بھی کم ہے جہاں مرکل کی کرسچیئن ڈیموکریٹس 1999 سے برسر اقتدار ہیں۔ سارلینڈ میں ہونے والے انتخاب ملک بھر میں 24 ستمر کو ہونے والے قومی انتخاب سے پہلے ہونے والے تین ریاستی انتخابات میں سے ایک ہیں۔

اس انتخاب پر اس لئے بھی گہری نظر رکھی جارہی ہے کیونکہ دائیں بازو کے سوشل ڈیموکریٹس کے طرف سے مرکل کے حریف کے طور پر جنوری میں نامزد ہونے والے مارٹن شلز کا بھی یہ پہلا سیاسی امتحان ہے۔

شلز یورپی پارلیمان کے سابق صدر ہیں تاہم ملک کی قومی سیاست میں نئے نئے داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کو طویل عرصے سے کمزور سیاسی حیثیت کو بہتر کرنے کے لئے نئے اعتماد دیا ہے۔ وہ ملک کے اندر معاشی عدم مساوات کے معاملے سے نمٹنے کی بات بھی کرتے ہیں تاہم ابھی تک ان کی سوچ اس حوالے سے واضح نہیں ہے۔

اگر ان کی جماعت کو سیاسی طور پر تقویت ملتی ہے تو مرکل کا چوتھی بار جرمنی کی چانسلر بننا یقینی نہیں ہے اور اسی وجہ سے سارلینڈ کے انتخاب میں بھی مقابلہ سخت ہو گیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک سار لینڈ کی قدامت پسند گورنر اینیگریٹ کریمپ کیرن بیور کا دوبارہ پانچ سال کی مدت کے لئے جیتنا یقینی نظر آتا تھا ۔ تاہم ان کی سوشل ڈیموکریٹ حریف اینکی رہلینگر کو امید ہے کہ اس مقابلے میں انہیں برتری حاصل ہوسکتی ہے اور عوامی جائزوں کے مطابق وہ حزب اختلاف کے ایک جماعت کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے انتخاب میں اکثریت حاصل کر سکتی ہیں۔

یہ خواتین ایک بڑے سیاسی اتحاد میں شامل ہونے کی وجہ سے مل کر ریاستی حکومت میں شامل ہیں اور قومی سطح پر مرکل بھی اسی طرح کے اتحاد کا حصہ ہیں۔

مرکل نے شلز کا ذکر کم ہی کیا ہے تاہم جمعرات کو سارلینڈ میں ہونے والے ایک جلسہ میں بائیں بازو کے اتحاد کے بارے میں متنبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم (اتوار کو) گھڑیوں کو پیچھے کی طرف نہیں موڑنا چاہتے بلکہ ہم گھڑیوں کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG