رسائی کے لنکس

logo-print

جرمنی کی مہاجرین سے متعلق پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، مرخیل


جرمن چانسلر نے انتخابی نتائج کو اپنی جماعت 'کرسچن ڈیموکریٹس' کے لیے ایک مشکل وقت قرار دیا۔

جرمن چانسلر آنگیلا مرخیل نے اعلان کیاہے کہ وہ حالیہ ریاستی انتخابات میں اپنی جماعت کی خراب کارکردگی کے باوجود مہاجرین کو پناہ دینے سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کریں گی۔

جرمنی چانسلر کا یہ بیان اتوار کو جرمنی کی تین ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نسبتاً نئی لیکن انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'الٹرنیٹو فار ڈوچے لینڈ ' (اے ایف ڈی) ریاستی اسمبلیوں میں نمائندگی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

جرمنی میں گزشتہ سال لگ بھگ 11 لاکھ پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے بعد ملک میں ہونے والا یہ پہلا انتخاب تھا جسے آنگیلا مرخیل کی تارکینِ وطن سے متعلق پالیسی امتحان قرار دیا جارہا تھا۔

'اے ایف ڈی' جرمنی میں مہاجرین کی آباد کاری کی سخت مخالف ہے جس کی انتخابات میں کامیابی کو مبصرین نے ووٹروں کی جانب سے آنگیلا مرخیل کی تارکینِ وطن کو پناہ دینے کی پالیسی پر عدم اعتماد کا اظہار قرار دیا ہے۔

آنگیلا مرخیل پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جرمنی میں پناہ گزینوں کی آمد روکیں جن میں سے بہت سے شام میں جاری خانہ جنگی سے فرار ہو کر پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ لیکن چانسلر مرخیل تمام تر عوامی اور سیاسی دباؤ کے باوجود جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد محدود کرنے یا انہیں سرحدوں سے واپس لوٹانے سے انکار کرتی آئی ہیں۔

پیر کو اپنے باضابطہ ردِ عمل میں جرمن چانسلر نے انتخابی نتائج کو اپنی جماعت 'کرسچن ڈیموکریٹس' کے لیے ایک مشکل وقت قرار دیا۔

اپنے بیان میں آنگیلا مرخیل نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپ نے مہاجرین کی آمد سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کی جانب خاصی پیش رفت کی ہے لیکن اب بھی اس مسئلے کے کسی دیرپا حل پر اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا ہے۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یورپ مل کر ہی اس بحران سے نبرد آزما ہوسکتا ہے لیکن اس پر اتفاقِ رائے میں بھی وقت لگے گا۔

جرمن چانسلر یورپی یونین کے 28 ممالک کو ایک ایسے منصوبے پر متفق کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس کے تحت یونین کے رکن ممالک کے مابین آبادی اور وسائل کے تناسب سےپناہ گزینوں کی آباد کاری کا کوٹہ تقسیم کیا جائے گا۔

انتخابات میں شکست کو چانسلر مرخیل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وہ یورپ کی سب سے طاقتور رہنما ہونے کی حیثیت سے پناہ گزینوں کی آمد روکنے کے لیے یورپی یونین اور ترکی کی درمیان ایک معاہدہ طے کرانے کی کوشش کر رہی ہیں جس کے تحت تارکینِ وطن کو ترکی میں ہی تمام بنیادی ضرورتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ یورپ کا رخ نہ کریں۔

XS
SM
MD
LG