رسائی کے لنکس

یورپ کی تقدیر ’’ہمارے اپنے ہی ہاتھوں میں ہے‘‘: مرخیل


اُنھوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ارکان ’’دہشت گردی کے انسداد، یورپی یونین کی بیرونی اور داخلی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے، اور حقیقی طور پر واحد ڈجیٹل منڈی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ایکساتھ مل کر کام کریں گے‘‘

جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل نے پیر کے دِن اِس بات کا عہد کیا کہ اس ہفتے کے اواخر میں جب منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ عہدے کا حلف لیں گے، تو وُہ اُن کی سوچ سےمطابقت پیدا کرنے کی کوشش کریں گی۔ تاہم، اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ کے امریکی سربراہ کے ساتھ اختلافِ رائے کے باوجود، یورپ کی یہ کوشش رہے گی کہ وہ اپنے راستے کا تعین کرے۔

مرخیل کا یہ بیان اختتام ہفتہ ٹرمپ کے انٹرویو کے جواب میں سامنے آیا، جس پر کچھ یورپی رہنما خوف زدہ ہوئے، جِس میں منتخب امریکی سربراہ نے نیٹو اتحاد پر اپنی پرانی نکتہ چینی دہرائی اور یورپ کو درپیش تارکینِ وطن کے بحران پر جرمنی کے اقدام کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا۔

مرخیل نے کہا کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکل جانے کے باوجود 27 یورپی ممالک اتحاد کا حصہ رہیں گے۔ بقول اُن کے، ’’میرے خیال میں یورپ کے لوگ اپنی تقدیر کا خود ہی فیصلہ کریں گے، اور میں اُن سے یہ تاکید کروں گی کہ وہ سارے متحد رہیں‘‘۔

برلن میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں، اُنھوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ارکان ’’دہشت گردی کے انسداد، یورپی یونین کی بیرونی اور داخلی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے، اور حقیقی طور پر واحد ڈجیٹل منڈی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ایکساتھ مل کر کام کریں گے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ یورپ کے بارے میں ٹرمپ کے خیالات سے ہم سب واقف ہیں۔

بقول اُن کے، ’’منتخب امریکی صدر نے اپنے خیالات کی نشاندہی کر دی ہے، اس لیے ایک بار جب وہ عہدہ سنبھالتے ہیں، چونکہ اس لمحے وہ عہدے پر فائز نہیں ہیں، ظاہر ہے ہم امریکی انتظامیہ سےتعاون کریں گے اور ہم دیکھیں گے آیا ہم کس نوعیت کا معاہدہ طے کرتے ہیں‘‘۔

اتوار کے روز ’دی ٹائمز آف لندن‘ اور جرمن اخبار ’بائلڈ‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا تھا کہ نیٹو قصہ پارینہ ہو چلا ہے، ’’چونکہ اسے کئی سال قبل تشکیل دیا گیا تھا‘‘۔ اُنھوں نے اپنی یہ شکایت بھی دہرائی، جس کے بارے میں وہ انتخابی مہم کے دوران اکثر آواز بلند کرتے رہے ہیں کہ نیٹو ’’ممالک ادائیگی نہیں کرتے، جیسا کہ اُنھیں کرنی چاہیئے‘‘۔

XS
SM
MD
LG