رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کو کئی اہم چیلنج درپیش ہیں: قومی سلامتی کے نامزد مشیر


قومی سلامتی کی سبک دوش ہونے والی مشیر، سوزن رائس نے کہا ہے کہ عبوری دور کی ذمہ داریاں منتقل ہو رہی ہیں۔ لیکن، اُنھوں نے تفصیل نہیں بتائی، چونکہ زیادہ تر معلومات ’’انتہائی خفیہ نوعیت کی ہے‘‘

امریکہ کی قومی سلامتی کے اگلے مشیر، مائیکل فِلن نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے دشمن ’’انتہائی برق رفتاری سے‘‘ امریکہ کے لیے چیلنج کا باعث بنے ہوئے ہیں؛ اور اس بات کو تسلیم کیا کہ اگلے ہفتے وہ جس عہدے پر وہ فائز ہوں گے، وہ آسان کام نہیں۔

اُنھوں نے یہ بات منگل کو واشنگٹن میں ’’مشعل حوالے کرنے‘‘ کے موضوع پر ایک تقریب میں کلمات ادا کرتے ہوئے کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ لمحہ ہم سے بہتر کارکردگی کا تقاضا کرتا ہے۔ تقریب سے مراد یہ تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی صدر براک اوباما سے اختیارات کی منتقلی کس طرح ہو رہی ہے۔

فلن فوج کے ایک لیفٹیننٹ جنرل رہے ہیں، جو سوزن رائس کے جانشین ہوں گے، جنھوں نے اجلاس کو بتایا کہ فلن کے کاندھوں پر اہم ذمہ داری پڑنے والی ہے، ایسے وقت جب عالمی سلامتی اتنی غیر مستحکم ہے جیسا کہ تاریخ کے حالیہ وقت کی باقی صورت حال ہے۔

رائس نے کہا کہ عبوری دور کی ذمہ داریاں منتقل ہو رہی ہیں۔ لیکن، اُنھوں نے تفصیل نہیں بتائی، چونکہ زیادہ تر معلومات ’’انتہائی خفیہ نوعیت کی ہے‘‘۔

نیشنل سکیورٹی کے مشیر کے طور پر، فلن قومی سلامتی کے امور پر منتخب صدر، ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیرِ خاص ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG